Bayan-ul-Quran - An-Nisaa : 12
وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠   ۧ
وَمَآ اَنْتُمْ : اور نہ تم بِمُعْجِزِيْنَ : عاجز کرنے والے فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَلَا : اور نہ فِي السَّمَآءِ : آسمان میں وَمَا : اور نہیں لَكُمْ : تمہارے لیے مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی حمایتی وَّلَا : اور نہ نَصِيْرٍ : کوئی مددگار
اور تم کو آدھا ملیگا اس ترکہ کا جو تمہاری بیبیاں چھوڑ جاویں اگر ان کے کچھ اولاد نہ ہو اور اگر ان بی بیوں کے کچھ اولاد ہو تو تم کو ان کے تر کہ سے چوتھائی ملیگا وصیت نکالنے کے بعد کہ وہ اس کی وصیت کر جائیں یا دین کے بعد اور ان بیبیوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم چھوڑ جاؤ۔ اگر تمہارے کچھ اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے تر کہ سے آٹھواں حصہ ملے گا وصیت نکالنے کے بعد کہ تم اس کی وصیت کر جاؤ یا دین کے بعد۔ اور اگر کوئی میت جس کی میراث دوسروں کو ملے گی خوا وہ (میت) مرد ہو یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں نہ فروع ہو اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملیگا پھر اگر یہ لوگ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب تہائی میں شریک ہونگے وصیت نکالنے کے بعد جس کی وصیت کی جاوے یا دین کے بعد بشرطیکہ کسی کو ضرر نہ پہنچاوے یہ حکم کیا گیا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں حلیم ہیں۔ (ف 1) (12)
1۔ احکام کو بیان کرکے آگے ان کے اعتقاد و عملا ماننے کی تاکید اور نہ ماننے پر وعید ارشاد فرماتے ہیں۔
Top