Ahsan-ul-Bayan - At-Tahrim : 11
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
فَاِذَا : پھر جب قَضَيْتُمْ : تم ادا کرچکو مَّنَاسِكَكُمْ : حج کے مراسم فَاذْكُرُوا : تو یاد کرو اللّٰهَ : اللہ كَذِكْرِكُمْ : جیسی تمہاری یاد اٰبَآءَكُمْ : اپنے باپ دادا اَوْ : یا اَشَدَّ : زیادہ ذِكْرًا : یاد فَمِنَ النَّاسِ : پس۔ سے۔ آدمی مَنْ : جو يَّقُوْلُ : کہتا ہے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اٰتِنَا : ہمیں دے فِي : میں اَلدُّنْیَا : دنیا وَمَا : اور نہیں لَهٗ : اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت مِنْ خَلَاقٍ : کچھ حصہ
اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی (1) جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب ! میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعوں سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔
11۔ 1 یعنی ان کی ترغیب ثبات قدمی، استقامت فی الدین اور شدائد میں صبر کے لئے۔ نیز یہ بتلانے کے لئے کہ کفر کی صولت و شوکت، ایمان والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، جیسے فرعون کی بیوی ہے جو اپنے وقت کے سب سے بڑے کافر کے تحت تھی۔ لیکن وہ اپنی بیوی کو ایمان سے نہیں روک سکا۔
Top