Tafseer-e-Jalalain - Saad : 28
كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠   ۧ
كُتِبَ عَلَيْكُمُ : تم پر فرض کی گئی الْقِتَالُ : جنگ وَھُوَ : اور وہ كُرْهٌ : ناگوار لَّكُمْ : تمہارے لیے وَعَسٰٓى : اور ممکن ہے اَنْ : کہ تَكْرَھُوْا : تم ناپسند کرو شَيْئًا : ایک چیز وَّھُوَ : اور وہ خَيْرٌ : بہتر لَّكُمْ : تمہارے لیے وَعَسٰٓى : اور ممکن ہے اَنْ : کہ تُحِبُّوْا : تم پسند کرو شَيْئًا : ایک چیز وَّھُوَ : اور وہ شَرٌّ : بری لَّكُمْ : تمہارے لیے وَاللّٰهُ : اور اللہ يَعْلَمُ : جانتا ہے وَاَنْتُمْ : اور تم لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے
اور اللہ نے بتلائی ایک مثل ایمان والوں کے لئے عورت فرعون کی جب بولی اے رب بنا میرے واسطے اپنے پاس ایک گھر بہشت میں اور بچا نکال مجھ کو فرعون سے اور اس کے کام سے اور بچا نکال مجھ کو ظالم لوگوں سے
(آیت) وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
یہ مثال فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم کی ہے جس وقت موسیٰ ؑ جادوگروں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے اور جادوگر مسلمان ہوگئے تو اس بی بی نے اپنے ایمان کا اظہار کردیا، فرعون نے ان کو سخت سزا دینا تجویز کیا، بعض روایات میں ہے کہ ان کو چومیخہ کرکے سینے پر بھاری پتھر رکھدیا یعنی چاروں ہاتھوں پیروں میں میخیں گاڑ دیں کہ حرکت نہ کرسکیں۔ اس حالت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ تجویز کیا کہ اوپر سے بہت بھاری پتھر ان کے سر پر ڈالدیا جائے، ابھی ڈالنے نہیں پائے تھے کہ انہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی، پتھر جسم بےجان پر گرا، اور دعا میں یہ فرمایا کہ میرے رب جنت میں اپنے پاس گھر بنا دے اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں انکو جنت کا گھر دکھلادیا (مظہری)
Top