Tafseer-e-Haqqani - Saad : 56
جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ
جَهَنَّمَ ۚ : جہنم يَصْلَوْنَهَا ۚ : وہ اس میں داخل ہوں گے فَبِئْسَ : سو برا الْمِهَادُ : بچھونا
جہنم کہ جس میں ان کو گرنا ہوگا۔ پھر کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔
ترکیب : جہنم بدل من شرو یصلونہا حال والعامل الاستقرار فی قولہ للطاغین ھذا مبتداء فی الخبرو جہان احد ھما فلیذوقوھوفیہ مافیہ الثانی عذاب وقیل حمیم و آخر علی الجمع فھو مبتلاء ومن شکلہ لغت ازواج خبرہ وعلی الافراد ھو معطوف علی جھنم۔ تفسیر : جبکہ فرمانبرداروں کا ثواب ذکر کیا تو نافرمانوں کا عذاب بھی ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید مذکور ہو کر دار الجزاء کا پورا بیان ہوجاوے۔ یہاں دوزخیوں کے حق میں چند باتیں بیان فرمائیں۔ (1) وان للطاغین الخ کہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم کہ جس میں وہ داخل ہوں گے، جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ دوزخ کی زمین کو بچھونے کے ساتھ تشبیہ دے کر مہاد فرمایا کہ وہ آگ کے بستر پر بیٹھیں گے۔ دنیا کی سرکشی اور شہوات آگ ہو کر سامنے آویں گے۔ (2) ھذا فلیذو قوہ الخ حمیم گرم کھولتا ہوا پانی غساق بالتشدید والتخفیف یقال غسقت العین اذا سال و معھا، ابن عمر ؓ کہتے ہیں۔ یہ دوزخیوں کے زخموں کی پیپ ہوگی جو گرم پانی کے ساتھ دوزخیوں کی غذا ہوگی۔ جیسا کہ مکان تھا ویسی ہی غذا۔ کہا جاوے گا کہ لو اس کو چکھو شکلہ ازواج جمہور نے آخر کو مفرد کا صیغہ پڑھا ہے اور بعض نے اس کو اخری کی جمع سمجھ کر آخر بضم ہمزہ پڑھا ہے، یعنی اس قسم کی یا ان اقسام کی ان کو اور بھی چیزیں ملیں گی جن کے کھانے پینے میں سخت تکلیف ہوگی۔ بدمزہ ‘ بدبو ‘ بداثر سب کچھ ہوگا۔ یہاں تک تو ان کے مکان اور کھانے پینے کا ذکر تھا، اب ان کے دنیاوی رفیقوں کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ (4) ھذا فوج مقتحم معکم ملائکہ دوزخ کے ان لوگوں سے کہیں گے جو دنیا میں گمراہوں کے سردار اور پیشوا تھے کہ تمہیں اکیلے نہیں تمہارے ساتھ یہ تمہاری فوج بھی داخل ہورہی ہے۔ الاقتحام در افگندن بسختی دھکا پیل ہو کر آنا۔ یہ سن کر وہ کہیں گے۔ لامرحبا بہم ان کو خوش وقتی نصیب نہ ہو یعنی یہ سردار اپنے متبعین کے لیے ناخوش ہو کر یہ بدعا کا کلمہ کہیں گے۔ محاورئہ عرب میں یہ کوسنا ہے، جس طرح ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں۔ خدا کی مار اور اچھے اور خوشی کے موقع پر مرحبا کہتے ہیں۔ برے موقع پر لامر حبا کہتے ہیں یا فرشتہ ہی کہیں گے۔ انہم صالوا النار یہ کمبخت بھی آگ میں آرہے ہیں۔ ان سرداروں کی یہ دلخراش بات سن کر ان کے پیرو جواب میں کہیں گے۔ بل انتم لامرحبا بکم الخ کہ تمہیں پر خدا کی مار تمہیں نے تو ہم کو اس بری جگہ پہنچایا، دنیا میں بری باتیں الحادو کفر کی تعلیم کرتے تھے، اس کے بعد خدا تعالیٰ سے التجا کرکے کہیں گے۔ من قدم لنا کہ خدایا جس نے ہم کو یہاں پہنچایا، اس کو دو چند عذاب دے۔ ایک اس کے گمراہ کرنے کا ایک خود اس کی گمراہی کا۔ (5) وقالوا ما لنا لانری رجالاً یہ ایک اور بڑی حسرت کی بات ہوگی کہ جن غریب مسلمانوں سے یہ متکبر ملحد تمسخر کیا کرتے اور ان کو احمق اور بدراہ کہتے تھے، ان کو اپنے ساتھ جہنم میں نہ دیکھیں گے تو آپس میں کہیں گے، وہ کہاں ہیں جو ہم کو نظر نہیں آتے، وہ جنت میں ہوں گے۔ ان کو کیوں نظر آنے لگے تھے، تب اور بھی رنج ہوگا۔ یہ روحانی جہنم ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان ذلک لحق کہ جہنم میں ان کا باہم جھگڑنا برحق ہے، قطعاً ہوگا۔
Top