Mafhoom-ul-Quran - Saad : 56
جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ
جَهَنَّمَ ۚ : جہنم يَصْلَوْنَهَا ۚ : وہ اس میں داخل ہوں گے فَبِئْسَ : سو برا الْمِهَادُ : بچھونا
دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرامگاہ ہے
سرکشوں کا انجام تشریح : یہ نقشہ دوزخ میں جانے والوں کا کھینچا گیا ہے۔ کیسا ہولناک منظر ہے۔ استغفر اللہ، اللہ دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ یہاں انسان کو اس زندگی میں اس بات کے کرنے سے محتاط رہنے کو کہا گیا ہے کہ کبھی بھی کسی کو کمتر سمجھ کر اس کے لیے اپنی غلط رائے نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہر انسان کے دل اور نیت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کچھ لوگ بری نیت سے صرف دکھاوے کے لیے نیک کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر اتنے پرہیزگار اور متقی دکھائی نہیں دیتے جتنے وہ اندر سے مخلص، مہربان، خدا ترس، نرم، متقی اور مقبول خدا ہوتے ہیں۔ یہاں جہنم کا منظر اور جہنمیوں کا تذکرہ نہایت ہولناک انداز میں بیان کیا گیا ہے، اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے، کسی شخص کے لیے حتمی جہنمی ہونے کا فتویٰ لگانا جائز نہیں ہے۔ اس لیے کبھی بھی کسی کا مذاق اڑانا، کسی کی بےحرمتی کرنا، کسی کو گناہ گار اور دوزخی کہنا بڑا سخت گناہ ہے۔ کیونکہ ہمیں تو خود اپنا بھی معلوم نہیں کہ کس وقت لاعلمی میں کتنا بڑا گناہ کرسکتے ہیں۔ اسی لیے ہر وقت استغفار کا ورد کرتے رہنا چاہیے۔ اس لیے ہر وقت اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے کسی کو نیکی کا سبق دے سکو تو ضرور دو کسی کو برائی سے منع کرسکو تو ضرور کرو لیکن کسی شخص کے لیے بھی جنتی یا دوزخی ہونے کا فتویٰ ہرگز صادر نہ کرو۔ کیونکہ یہ علم تو صرف اللہ کو ہی ہے کہ کون کیسا ہے اور کیسا بدلہ پائے گا۔ کوئی بھی کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے سیدنا محمد ﷺ کو کہا گیا ہے۔
Top