Tafseer-e-Usmani - Yaseen : 15
قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ
قَالُوْا : وہ بولے مَآ اَنْتُمْ : تم نہیں ہو اِلَّا : مگر۔ محض بَشَرٌ : آدمی مِّثْلُنَا ۙ : ہم جیسے وَمَآ : اور نہیں اَنْزَلَ : اتارا الرَّحْمٰنُ : رحمن (اللہ) مِنْ شَيْءٍ ۙ : کچھ اِنْ : نہیں اَنْتُمْ : تم اِلَّا : مگر ۔ محض تَكْذِبُوْنَ : جھوٹ بولتے ہو
جواب میں بستی والوں نے کہا کہ تم تو ہم ہی جیسے بشر (اور انسان) ہو اور (خدائے) رحمان نے کوئی چیز نہیں اتاری تم تو محض جھوٹ بولتے ہو
20 بشریت انبیاء منکروں کے لیے باعث انکار و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام کی بشریت طاہرہ منکروں اور بدبختوں کی محرومی کا باعث رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ ان منکروں نے پیغمبروں سے ان کی بشریت طاہرہ کی بنا پر کہا کہ " تم تو ہم ہی جیسے بشر۔ اور انسان ۔ ہو "۔ تو پھر تم رسول کیونکر ہوسکتے ہو اور تمہارے اندر آخر ایسی کون سی بات ہے کہ ہم تمہیں رسول مان لیں۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے بارے میں یہی غلط فہمی لوگوں کو ہمیشہ رہی اور اسی کی وجہ سے وہ حق سے محروم ہوئے۔ کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ لوگوں کا کہنا اور ماننا یہ تھا اور یہ ہے کہ نبوت و رسالت اور صفت بشریت دونوں چیزیں یکجا جمع نہیں ہوسکتیں۔ پس جو بشر ہوگا وہ رسول اور نبی نہیں ہوسکتا۔ اور جو رسول و نبی ہوگا وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے منکرین نبوت و رسالت نے حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی بشریت کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں جابجا ذکر فرمایا گیا ہے۔ بطور نمونہ مندرجہ ذیل آیات کریمہ ملاحظہ ہوں۔ بنی اسرائیل : نمبر 94 -95، الانبیائ : نمبر 3، 7، 8، المومنون : نمبر 24، 34، الفرقان : نمبر 7، 20 اور التغابن : نمبر 6 وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہ ہے۔ اور عقل سلیم اور نقل صحیح دونوں اس پر متفق ہیں کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ بیک وقت بشر اور انسان بھی ہوتے ہیں اور نبی و رسول بھی۔ اور ان کو ایسے ہی ہونا بھی چاہیئے تاکہ ان قدسی صفت حضرات کی پاکیزہ زندگیاں اور ان کی زندگی کا ہر عمل و کردار بندگان خدا کے لئے اسوئہ اور نمونہ بن سکے۔ چناچہ اسی بنا پر امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ۔ ﷺ ۔ کی نبوت و رسالت کا ماہ کامل اور شمس مشرق و منیر قیامت تک کی ساری مخلوق کے لئے ہدایت و رحمت کا منبع و سرچشمہ بن کر طلوع ہوا اور آپ ﷺ نے حوائج و ضروریات بشریہ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کے بارے میں اسوئہ حسنہ اور قدوئہ و نمونہ پیش فرمایا ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلامُہ عَلَیْہِ ۔ مگر اس سب کے باوجود بشریت انبیاء سے متعلق یہ غلط فہمی بہت سے لوگوں میں آج تک موجود ہے اور بہت سے کلمہ گو آج بھی اس کا شکار ہیں۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ کل کے منکروں نے حضرات انبیائے کرام کے صرف ظاہر اور ان کی بشریت طاہرہ کو دیکھا۔ اور اس بنا پر انہوں نے ان حضرات کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا اور کہا کہ چونکہ یہ بشر ہیں لہذا ہم ان کو نبی اور رسول نہیں مانتے۔ جبکہ آج کے ٹیڑھی سوچ کے انسان اور کلمہ گو مشرک کا کہنا اس کے برعکس یہ ہے کہ چونکہ ہم ان کو نبی و رسول مانتے ہیں۔ لہذا ان کو بشر نہیں مان سکتے۔ سو غلط فہمی دونوں کو بہرحال ایک ہی ہے کہ ان کے نزدیک نبوت اور بشریت کے ان دونوں وصفوں کے درمیان منافات ہے۔ اس لیے یہ دونوں یکجا نہیں ہوسکتے جبکہ عقل و نقل دونوں کا اتفاق اس پر ہے کہ یہ دونوں وصف نہ صرف یکجا ہوسکتے ہیں بلکہ بالفعل یکجا ہوتے ہیں۔ اور ان دونوں کو یکجا ہونا چاہیئے۔ ہر نبی و رسول کی شان یہی رہی ہے کہ وہ نبی و رسول بھی ہوتا ہے اور بشر و انسان بھی ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ اور اسی کا اقرار و اظہار ہر مومن کلمہ طیبہ میں " عبدہ و رسولہ " کے کلمات کریمہ سے کرتا ہے جو کہ ایمان و یقین کی اساس ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام اپنی اصل کے اعتبار سے بشر اور انسان ہوتے ہیں اور اپنی صفت کے اعتبار سے نبی و رسول ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Top