Tadabbur-e-Quran - Yaseen : 15
قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ
قَالُوْا : وہ بولے مَآ اَنْتُمْ : تم نہیں ہو اِلَّا : مگر۔ محض بَشَرٌ : آدمی مِّثْلُنَا ۙ : ہم جیسے وَمَآ : اور نہیں اَنْزَلَ : اتارا الرَّحْمٰنُ : رحمن (اللہ) مِنْ شَيْءٍ ۙ : کچھ اِنْ : نہیں اَنْتُمْ : تم اِلَّا : مگر ۔ محض تَكْذِبُوْنَ : جھوٹ بولتے ہو
لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو بس ہمارے ہی جیسے بشر ہو ! اور خدائے رحمان نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے، تم لوگ بالکل جھوٹ دعویٰ کرتی ہو۔
قالو ما انتتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمن من شئی ان انتم الا تکذبون (15) یہ وہی اعتراض ہے جو ہر رسول کے مکذبین نے اپنے اپنے رسولوں کے خلاف اٹھایا ہے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو تو تم خدا کے رسول کیسے ہوئے ! اگر خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کسی برتر مخلوق کو رسول بناتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے انسانون کو۔ یہ اعتراض قرآن میں رسولوں کے مکذبین کی زبان سے بار بار نقل ہوا ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان کو بھی حضرت موسیٰ ؑ پر یہ اعتراض تھا اور یہی اعتراض قریش نے آنحضرت ﷺ کے خلاف بھی اٹھایا تھا۔ ’ وما انزل الرحمن الایۃ ‘۔ یعنی تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا نے تم پر کوئی کتاب یا وحی نازل کی ہے، بالکل جھوٹ ہے۔ خدا نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے۔
Top