Tafseer-e-Majidi - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کی برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرتے پھرتے ہیں، یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟ ،29۔
29۔ مطلب یہ ہوا کہ وقوع قیامت کی تو خود ایک بڑی حکمت وغایت یہی ہے کہ جزاوسزا کامل ہو، اور مفسدوں، بدکاروں، منکروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، اب جو نادان وقوع قیامت کے منکر ہیں، وہ اس حکمت کو بھی ناقابل اعتناء سمجھ رہے ہیں۔ (آیت) ” کالمفسدین فی الارض “۔ یہ مفسدین فی الارض وہی لوگ ہیں، جو قانون شریعت سے بغاوت کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں، اور جس کا ایک لازمی نتیجہ فساد فی الارض ہے۔
Top