Mazhar-ul-Quran - Saad : 59
هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ
ھٰذَا : یہ فَوْجٌ : ایک جماعت مُّقْتَحِمٌ : گھس رہے ہیں مَّعَكُمْ ۚ : تمہارے ساتھ لَا مَرْحَبًۢا : نہ ہو کوئی فراخی بِهِمْ ۭ : انہیں اِنَّهُمْ : بیشک وہ صَالُوا النَّارِ : داخل ہونے والے جہنم میں
ان سے کہا جائے گا) یہ1، ایک اور جماعت تمہارے سات دوزخ میں گھس رہی ہے جو تمہاری تھی وہ کہیں گے ، ان کو کشادہ جگہ آگ میں نہ ملے بیشک ان کو دوزخ میں جانا ہی ہے وہاں بھی تنگ جگہ میں رہیں
اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا۔ (ف 1) یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لالاکردوزخ کے کنارے جمع کریں گے ، پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا، بعد انکے مقلدین واتباع کی جماعت آئے گی اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لویہ ایک اور جماعت داخل ہوگی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے ک لیے چلی آرہی ہے خدا کی مار ان پر یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے ، اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو، تم پر ہی خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواواضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی ، اب بتاؤ کہاں جائیں جو کچھ ہے یہی ٹھہرنے کی جگہ ہے جس طرح ہو یہاں ہی سب مروکھپو۔ آپس میں لعن طعن کرکے پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار جو اپنی شقاوت سے یہ بلا اور مصیبت ہمارے سرپرلایا اس کو دوزخ میں دوگنا عذاب دیجئے، شائد سمجھیں گے کہ اس کا دوگنا عذاب دیکھ کر ذرا دل ٹھنڈا ہوجائے گا حالانکہ وہاں تسلی کا سامان کہاں، ایک دوسرے کو کوسنا اور پھٹکارنا یہ بھی ایک مستقل عذاب ہوگا، پھر جب وہاں دیکھیں گے کہ سب جان پہنچان والے لوگ ادنی واعلی دوزخ میں ، جانے کے واسطے جمع ہوئے ہیں مگر جن مسلمانوں کو پہنچانتے اور سب سے زیادہ برا جان کر مذاق اڑایا کرتے تھے وہ اس جگہ نظر نہیں آتے توحیران ہوکر کہیں گے کہ کیا ہم غلطی سے ان کے ساتھ ہنسی کرتے تھے وہ اس قابلہ نہ تھے کہ آج دوزخ کے نزدیک رہیں یا اسی جگہ کہیں ہیں یا آنکھیں ان کی طرف پھر گئیں اس لیے وہ ہمارے دیکھنے میں نہیں آتے، دوزخیوں کے آپس کا یہ جھگڑا اور تکرار اور یک دوسرے کا لعنت کرنا ضروری ہے جس میں شک نہیں ۔
Top