Tafseer-e-Mazhari - Saad : 59
هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ
ھٰذَا : یہ فَوْجٌ : ایک جماعت مُّقْتَحِمٌ : گھس رہے ہیں مَّعَكُمْ ۚ : تمہارے ساتھ لَا مَرْحَبًۢا : نہ ہو کوئی فراخی بِهِمْ ۭ : انہیں اِنَّهُمْ : بیشک وہ صَالُوا النَّارِ : داخل ہونے والے جہنم میں
یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی۔ ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں
ھذا فوج مقتحم معکم یہ ایک جماعت اور آئی جو تمہارے ساتھ (عذاب میں شریک ہونے کیلئے دوزخ میں بے تابانہ) گھس رہے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ دوزخ کے کارندوں کا کلام ہوگا ‘ جو جہنمی لیڈروں سے وہ کہیں گے۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ کافروں کے پیشوا اور لیڈر جب دوزخ میں چلے جائیں گے تو ان کے بعد ان کے پیرو بھی آکر دوزخ میں داخل ہوجائیں گے ‘ اس وقت دوزخ کے کارندے ان پیشواؤں سے یہ بات کہیں گے۔ بعض علماء نے کہا : یہ پیشواؤں کا کلام ہوگا جو ایک دوسرے سے کہے گا کہ یہ لو تمہارے متبعین کی جماعت بھی تمہارے ساتھ (عذاب میں شریک ہونے کو) دوزخ میں گھس رہی ہے۔ اقتحام کا معنی ہے بیتابی کے ساتھ (یعنی اضطراری طور پر) کسی چیز میں گھس پڑنا۔ کلبی نے کہا : ان کو گرزوں سے مارا جائے گا ‘ گرزوں کے خوف سے وہ خود اپنے آپ کو دوزخ میں ڈال دیں گے۔ میں کہتا ہوں : یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خلفاء لوگوں کو پیچھے سے کمر پکڑ کر دوزخ میں گرنے سے روکتے ہیں اور ایسے کاموں سے روکتے ہیں جن کا ارتکاب موجب جہنم ہے ‘ مگر لوگ نہیں مانتے ‘ خود ہی دوزخ میں گھسے پڑتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جو جہنم میں لے جانے والے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخض نے آگ جلائی ہو ‘ جب آگ روشن ہوگئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے آ آکر اس میں گرنے لگے۔ وہ ہرچند گرنے سے روکتا تھا ‘ مگر آگ میں گرنے والے (پروانے اور کیڑے) اس پر غالب آکر گھسے چلے جاتے تھے (آخر سوختہ ہوجاتے تھے) میں بھی تم کو دوزخ میں گرنے سے ہرچند روکتا ہوں اور کہتا ہوں : دوزخ سے ہٹ جاؤ ‘ آگ سے بچ جاؤ ‘ مگر تم مجھ پر غالب آتے اور دوزخ میں گھسے پڑتے ہو (متفق علیہ) ۔ خلاصہ یہ کہ بعض کافر بعض سے کسی تیسرے فریق کے متعلق کہیں گے کہ یہ بھی تمہارے ساتھ عذاب میں شریک ہونے کیلئے دوزخ میں گھس رہے ہیں ‘ یا ایک سردار کفار دوسرے پیشوا سے متبعین کے حق میں کہے گا۔ وہ پیشوا کہیں گے :
Top