Ruh-ul-Quran - Saad : 59
هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ
ھٰذَا : یہ فَوْجٌ : ایک جماعت مُّقْتَحِمٌ : گھس رہے ہیں مَّعَكُمْ ۚ : تمہارے ساتھ لَا مَرْحَبًۢا : نہ ہو کوئی فراخی بِهِمْ ۭ : انہیں اِنَّهُمْ : بیشک وہ صَالُوا النَّارِ : داخل ہونے والے جہنم میں
یہ ایک لشکر تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، خدا کی مار ان پر، یہ تو دوزخ میں پڑنے والے ہیں
ھٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَکُمْ ج لاَ مَرْحَبًا م بِہِمْ ط اِنَّھُمْ صَالُوا النَّارِ ۔ (صٓ: 59) (یہ ایک لشکر تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، خدا کی مار ان پر، یہ تو دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔ ) اہلِ جہنم کی توتکار کفر کے سرغنوں اور لیڈروں کا حال بیان کرنے کے بعد اب بتایا جارہا ہے کہ انھیں بتایا جائے گا کہ جو لوگ ہمیشہ تمہارے پیروکار بنے رہے اور تمہاری لیڈری بھی ان کے بل بوتے پر چلتی رہی وہ بھی تمہاری طرف بڑھے چلے آرہے ہیں، ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو تمہارا انجام ہونے والا ہے۔ چناچہ جیسے ہی ان کی نظر ان پر پڑے گی تو بجائے ان سے کسی ہمدردی کے اظہار کے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ خدا غارت کرے انھیں، ان کا ستیاناس ہو، ان کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، یہ بھی جہنم میں داخل ہونے والے ہیں۔ جس انجام سے ہم دوچار ہورہے ہیں ان کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔
Top