Tafseer-e-Mazhari - Al-Kahf : 20
قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ
قَالَ : فرمایا اللّٰهُ : اللہ هٰذَا : یہ يَوْمُ : دن يَنْفَعُ : نفع دے گا الصّٰدِقِيْنَ : سچے صِدْقُهُمْ : ان کا سچ لَهُمْ : ان کے لیے جَنّٰتٌ : باغات تَجْرِيْ : بہتی ہیں مِنْ تَحْتِهَا : ان کے نیچے الْاَنْھٰرُ : نہریں خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہیں گے وہ فِيْهَآ : ان میں اَبَدًا : ہمیشہ رَضِيَ : راضی ہوا اللّٰهُ : اللہ عَنْهُمْ : ان سے وَرَضُوْا : اور وہ راضی ہوئے عَنْهُ : اس سے ذٰلِكَ : یہ الْفَوْزُ : کامیابی الْعَظِيْمُ : بڑی
اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے
اِنَّهُمْ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ کیوں کہ ان لوگوں نے اگر تمہاری اطلاع پا لی یا تم پر ان کا قابو چل گیا۔ يَرْجُمُوْكُمْ : پتھر مار مار کر وہ تم کو ہلاک کردیں گے۔ (اگر تم نے مرتد ہونا قبول نہیں کیا اور ان کے بتوں کی پوجا نہ کی) ۔ اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِيْ مِلَّتِهِمْ (یا اگر تم نے ارتداد کو قبول کرلیا) تو تم کو اپنے مذہب میں لوٹا لیں گے۔ شاید اصحاب کہف پہلے ان کے ہم مذہب تھے پھر مؤمن بن گئے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جبراً تم کو اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے۔ اس مطلب پر اعادہ کا معنی (لوٹا لینا نہ ہوگا بلکہ داخل کرنا ہوگا۔ وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا : اور اس وقت (یعنی اگر تم نے ان کے مذہب میں داخل ہونا قبول کرلیا تو) کبھی بھی بہبودی نہیں پاؤ گے۔ (کبھی عذاب سے نجات نہیں ملے گی)
Top