Tadabbur-e-Quran - Saad : 23
اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ
اِنَّ ھٰذَآ : بیشک یہ اَخِيْ ۣ : میرا بھائی لَهٗ : اس کے پاس تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ : ننانوے نَعْجَةً : دنبیاں وَّلِيَ : اور میرے پاس نَعْجَةٌ : دنبی وَّاحِدَةٌ ۣ : ایک فَقَالَ : پس اس نے کہا اَكْفِلْنِيْهَا : وہ میرے حوالے کردے وَعَزَّنِيْ : اور اس نے مجھے دبایا فِي الْخِطَابِ : گفتگو میں
یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دبنیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دبنی ہے پس اس نے ہا کہ یہ بھی میرے حالے کر دے اور بحث میں اس نے مھے دبا لیا۔
(آیت) اصل قضیہ کی تفصیل یہ اصل جھگڑے کی تفصیل ہے جو مظلوم فریق نے پیش کی۔ اس نے دوسرے فریق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرا بھائی ہے جس کے پاس ننانوے و نبی اں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ میں اپنی دنبی بھی اس کے حوالے کر دوں۔ اس کے لئے یہ مجھ سے جھگڑتا ہے اور جھگڑے میں یہ مجھ پر غالب آگیا ہے۔ یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ اس زمانے میں اسی علاقہ کی اصلی دولت بھیڑوں اور دنبیوں ہی سے عباتر تھی۔ حضرت دائود ؑ کی زندگی بھی بادشاہی سے پہلے بھیڑ سالے اور بھیڑوں کے چرانے ہی میں گزری ہے۔ تاریخوں سے یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے سکہ پر تصور بھی دنبی کی تھی اور اس کو نعجمہ کہتے بھی تھے۔ یہ بات اگر صحیح نہ بھی ہو جب بھی ملکیت اور ماں کی تعبیر کے لئے یہ لفظ اس زمانے میں معروف رہا ہے۔ عزنی فی الخطاب میں لفظ خطاب بحث وجدال کے مفہوم میں ہے۔ چونکہ وہ دولتمند آدمی تھا اور دولت مند کو حامی بڑی آسانی سے مل جاتے ہیں اس وجہ سے اس نے دوسروں کو ہم خیال بنا کر غریب آدمی کو دبا لیا ہوگا۔
Top