تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 31
اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ع﴿31﴾
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- لَهُمْان کے لیے
- جَنّٰتُباغات
- عَدْنٍہمیشگی
- تَجْرِيْبہتی ہیں
- مِنْ تَحْتِهِمُان کے نیچے
- الْاَنْهٰرُنہریں
- يُحَلَّوْنَپہنائے جائیں گے
- فِيْهَااس میں
- مِنْسے
- اَسَاوِرَکنگن
- مِنْسے
- ذَهَبٍسونا
- وَّيَلْبَسُوْنَاور وہ پہنیں گے
- ثِيَابًاکپڑے
- خُضْرًاسبز رنگ
- مِّنْسے۔ کے
- سُنْدُسٍباریک ریشم
- وَّاِسْتَبْرَقٍاور دبیز ریشم
- مُّتَّكِئِيْنَتکیہ لگائے ہوئے
- فِيْهَااس میں
- عَلَي الْاَرَآئِكِتختوں (مسہریوں) پر
- نِعْمَاچھا
- الثَّوَابُبدلہ
- وَحَسُنَتْاور خوب ہے
- مُرْتَفَقًاآرام گاہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے،34 باریک ریشم اور اطلس و دیَبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اُونچی مسندوں 35 پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْكَهْف 34
قدیم زمانے میں بادشاہ سونے کے کنگن پہنتے تھے۔ اہل جنت کے لباس میں اس چیز کا ذکر کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ وہاں بادشاہوں کی سی شان و شوکت سے رہے گا۔
سورة الْكَهْف 35
ارائک جمع ہے اریکہ کی۔ اریکہ عربی زبان میں ایسے تخت کو کہتے ہیں جس پر چتر لگا ہوا ہو۔ اس سے بھی یہی تصور دلانا مقصود ہے کہ وہاں ہر جنتی تخت شاہی پر متمکن ہوگا۔