67. Al-Mulkالملك

The Sovereignty · Meccan · 30 ayahs · 2 rukus · ڈاکٹر اسرار احمد

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ﴿1﴾

    بہت ہی بابرکت ہے وہ ہستی جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔
  2. اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ﴿2﴾

    جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔ اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی۔
  3. الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ﴿3﴾

    (وہ اللہ کہ) جس نے بنائے سات آسمان ایک دوسرے کے اوپر۔ تم نہیں دیکھ پائو گے رحمن کی تخلیق میں کہیں کوئی فرق۔ پھر لوٹائو نگاہ کو کیا تمہیں کہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے ؟
  4. ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ﴿4﴾

    پھر لوٹائو نگاہ کو بار بار (کوئی رخنہ ڈھونڈنے کے لیے) پلٹ آئے گی نگاہ تمہاری طرف ناکام تھک ہار کر۔
  5. وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ﴿5﴾

    اور ہم نے سب سے قریبی آسمان کو سجا دیا ہے چراغوں سے اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔
  6. وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿6﴾

    اور جو لوگ اپنے رب کا کفر کریں (چاہے وہ انسان ہوں یا جنات) ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے۔
  7. اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ﴿7﴾

    جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو اسے سنیں گے دھاڑتے ہوئے اور وہ بہت جوش کھا رہی ہوگی۔
  8. تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ﴿8﴾

    قریب ہوگا کہ وہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کسی ایک گروہ کو تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟
  9. قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ﴿9﴾

    وہ کہیں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس خبردار کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کوئی شے نہیں اتاری۔ تم تو کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہو۔
  10. وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ﴿10﴾

    اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم سنتے اور عقل سے کام لیتے تو ہم نہ ہوتے ان جہنم والوں میں سے۔
  11. فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ﴿11﴾

    پس وہ اپنے اصل گناہ کا اعتراف کرلیں گے۔ پس پھٹکار ہے جہنمی لوگوں کے لیے۔
  12. اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ﴿12﴾

    بیشک وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے ہوئے ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی۔
  13. وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿13﴾

    اور (دیکھو !) چاہے تم اپنی بات کو چھپا کر بیان کرو یا بلند آواز سے بیان کرو (وہ اس کو جانتا ہے)۔ وہ تو اس سے بھی واقف ہے جو تمہارے سینوں کے اندر پنہاں ہے۔
  14. اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ع﴿14﴾

    کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ اور وہ بہت باریک بین ہے ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔
  15. هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ﴿15﴾

    وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا ہے زمین کو پست تو تم چلو پھرو اس کے کندھوں کے مابین اور اس کے (دیے ہوئے) رزق سے کھائو پیو اور (یاد رکھو کہ تم نے) اسی کی طرف زندہ ہو کر جانا ہے۔
  16. ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ﴿16﴾

    کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے۔
  17. اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ﴿17﴾

    کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے ؟ پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا خبردار کرنا کیسا تھا !
  18. وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ﴿18﴾

    اور یقینا ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا تھا تو کیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب ؟
  19. اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ﴿19﴾

    کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں پرندوں کو اپنے اوپر (اڑتے ہوئے) کبھی پروں کو پھیلائے ہوئے اور کبھی سمیٹے ہوئے ؟ نہیں روکے ہوئے انہیں کوئی (فضا میں) مگر رحمن ! یقینا وہ ہرچیز کو خوب دیکھنے والا ہے !
  20. اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ﴿20﴾

    بھلا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے رحمن کے مقابلہ میں ؟ نہیں ہیں یہ کافر مگر دھوکے میں مبتلا ہیں۔
  21. اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ﴿21﴾

    پھر بھلا کون ہے وہ جو تمہیں رزق دے سکے اگر اللہ اپنے رزق کو روک لے ؟ بلکہ یہ لوگ اپنی سرکشی اور حق سے گریز میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔
  22. اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿22﴾

    تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل گھسٹ رہا ہے زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ جو سیدھا ہو کر چل رہا ہے ایک سیدھے راستے پر ؟
  23. قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ﴿23﴾

    کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بنائے۔ بہت ہی کم شکر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔
  24. قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿24﴾

    کہہ دیجیے اسی نے تمہیں پھیلا دیا ہے زمین میں اور اسی کی طرف تم اکٹھے کردیے جائو گے۔
  25. وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿25﴾

    وہ کہتے ہیں کب پورا ہوگا یہ وعدہ ؟ اگر تم سچے ہو (تو بتائو) !
  26. قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿26﴾

    کہہ دیجیے کہ یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک واضح طور پر خبردار کردینے والا ہوں۔
  27. فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ﴿27﴾

    پھر جب وہ دیکھیں گے اس کو اپنے قریب آتے تو ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا یہ ہے وہ چیز جس کا تم مطالبہ کرتے تھے۔
  28. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿28﴾

    (اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے کہ اگر اللہ مجھے اور جو لوگ میرے ساتھ ہیں ان کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم کرے تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟
  29. قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿29﴾

    (اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ وہ تو رحمن ہے ہم اس پر ایمان لاچکے ہیں اور اسی پر ہمارا توکل ّہے۔ تو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون تھا !
  30. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ع﴿30﴾

    آپ ﷺ کہیے کہ ذرا سوچو ! اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے تو کون ہے جو لائے گا تمہارے پاس صاف نتھرا ہواپانی ؟