31. Luqmanلقمان

Luqman · Meccan · 34 ayahs · 3 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓمّٓۚ﴿1﴾

    الف لام میم
  2. تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ﴿2﴾

    یہ آیتیں ہیں ایک پر حکمت کتاب کی
  3. هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ﴿3﴾

    جو ہدایت و رحمت ہے نیک کاروں کے حق میں۔
  4. الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ﴿4﴾

    جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں
  5. اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿5﴾

    یہی لوگ ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے راہ ہدایت پر اور یہی لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔
  6. وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿6﴾

    اور کوئی انسان ایسا بھی ہے جو اللہ سے غافل کرنے والی باتیں خرید کرتا ہے تاکہ اللہ کی راہ سے بےسمجھے بوجھے (دوسروں کو) گمراہ کرے اور اس راہ کی ہنسی اڑائے۔ ایسے ہی لوگوں کیلئے ذلت کا عذاب ہے۔
  7. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿7﴾

    اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں گویا اس کے کانوں میں ثقل ہے سو آپ اسے خبر سنا دیجیے عذاب درد ناک کی۔
  8. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ﴿8﴾

    البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کبھی کئے ان کے لئے راحت کی جنتیں ہیں
  9. خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿9﴾

    جن میں وہ (ہمیشہ) رہیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔
  10. خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ﴿10﴾

    (اسی نے) آسمانوں کو بلاستون بنایا ہے تم ان کو دیکھ رہے ہو اور زمین پر بھاری پہاڑ ڈال رکھے ہیں کہ کہیں تم کو لے کر ڈانواں ڈول نہ ہونے لگے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس (زمین) میں ہر طرح کے عمدہ اقسام اگائے۔
  11. هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ع﴿11﴾

    یہ تو اللہ کی مخلوق ہوئی اب مجھے دکھاؤ کہ اس (اللہ) کے علاوہ جو ہیں انہوں نے کیا چیزیں پید ا کی ہیں اصل یہ ہے کہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔
  12. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿12﴾

    اور بیشک ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی۔ (اور یہ حکم) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی (نفع کے) لئے شکر کرتا ہے۔ اور جو کوئی ناشکری کرے سو اللہ بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے۔
  13. وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴿13﴾

    اور اس وقت کا ذکر کیجیے جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے بیٹا اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔
  14. وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ﴿14﴾

    اور ہم نے انسان کو تاکید کی اس کے ماں باپ سے متعلق اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹنا ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کر میری ہی طرف واپسی ہے۔
  15. وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿15﴾

    اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کئے جانا۔ اور اسی کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع کئے ہو۔ پھر تم (سب) کو میرے پاس آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہتے تھے میں تمہیں سب جتلا دوں گا
  16. یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ﴿16﴾

    اے بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کی برابر ہو پھر کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے اندر ہو اللہ اسے لے ہی آئے گا بیشک اللہ بڑا باریک بین ہے بڑا باخبر ہے۔
  17. یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ﴿17﴾

    اے میرے بیٹے نماز کو قائم رکھ اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کام سے منع کیا کر اور جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کر بیشک یہ (صبر) ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
  18. وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ﴿18﴾

    اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین پر اکڑ کر مت چک بیشک اللہ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
  19. وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ع﴿19﴾

    اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اورا پنی آواز کو پست رکھ بیشک سب سے بری آواز گدھے کی ہوتی ہے۔۔
  20. اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ﴿20﴾

    کیا تم لوگوں کو اس نظر نہیں کہ اللہ نے تمہارے ہی کام میں لگا رکھا ہے اس (سب) کو جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اس نے تم پر اپنی حسی اور معنوی نعمتیں پوری کر رکھی ہیں۔ اور انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے باب میں بغیر واقفیت بغیر دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے بحث کیا کرتے ہیں۔
  21. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ﴿21﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے اتاری ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کا پایا ہے کیا یہ جب بھی جب شیطان ان (بڑوں) کو عذاب دوزخ کی طرف بلارہاہو ؟۔
  22. وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ﴿22﴾

    اور جو کوئی اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے درآنحالیکہ وہ مخلص ہو تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا اور سب کاموں کا اخیر اللہ ہی تک پہنچے گا۔
  23. وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿23﴾

    اور جو کوئی کفر کرے سو آپ کو اس کا کفر غمگین نہ کرے ان (سب) کو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے سو ہم انہیں جتلادیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے بیشک اللہ کو دلوں کے اندر کی باتیں خوب معلوم ہیں۔
  24. نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ﴿24﴾

    ہم انہیں چند روزہ عیش دیئے ہوئے ہیں پھر ان کو سخت عذاب کی طرف کشاں کشاں پہنچا دیں گے
  25. وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿25﴾

    اور اگر آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے آپ کہیے کہ الحمد للہ۔ لیکن ان میں سے اکثر تو (اتنی بات بھی) نہیں جانتے۔
  26. لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ﴿26﴾

    اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے۔
  27. وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿27﴾

    اور جتنے زمین بھر میں ہیں اگر یہ سب قلم بن جائیں۔ اور اس سمندر کے علاوہ سات سمندر اور ہوجائیں تو بھی اللہ کے کلمات (کی حکایت) ختم نہ ہو بیشک اللہ بڑا زبردست ہے حکمت والا ہے۔
  28. مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿28﴾

    تم (سب) کا پیدا کرنا اور دوبارہ اٹھانا بس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا ہے خوب دیکھنے والا ہے
  29. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿29﴾

    کیا تو نے اس نظر نہیں کی کہ اللہ رات کو داخل کرتا رہتا ہے دن میں اور دن کو داخل کرتا رہتا ہے رات میں اور سورج اور چاند کو کام میں لگارکھا ہے ہر ایک ایک میعاد مقررتک چلتا رہے گا اور کیا اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری خبر رکھتا ہے۔
  30. ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ع﴿30﴾

    اس سبب سے کہ اللہ ہی (کی ہستی) حقیقی ہے اور اس لئے کہ اس کے سوا جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں سب ہیچ ہیں اور اس لئے کہ اللہ ہی بلند شان والا ہے بڑی شان والا ہے۔
  31. اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ﴿31﴾

    کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتی سمندر میں چلتی ہے تاکہ تم کو (اللہ) اپنی نشانیاں دکھلائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صابر شاکر کے لئے۔
  32. وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ﴿32﴾

    اور جب انہیں موجیں سائبانوں کی طرح گھیر لیتی ہیں تو وہ خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب وہ انہیں نجات دے خشکی پر لے آتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں۔۔ اور ہماری آیتوں کے منکرتوبس وہی ہوتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہیں۔
  33. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ﴿33﴾

    اور اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف رکھوجب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ بن سکے گا۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے سودنیوی زندگی تمہیں کہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے اور نہ کہیں وہ بڑا فریبیا تمہیں اللہ کے باب میں دھوکہ میں رکھے۔
  34. اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ع﴿34﴾

    بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے۔ اور کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ وہ کل کیا عمل کریگا۔ اور نہ کوئی یہ جان سکتا ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ ہی علم والا ہے خبر رکھنے والا ہے۔