32. As-Sajdaالسجدة

The Prostration · Meccan · 30 ayahs · 3 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓمّٓۚ﴿1﴾

    الف لام میم
  2. تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿2﴾

    یہ نازل کی ہوئی کتاب اس کے اندر کوئی اشتباہ نہیں عالموں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
  3. اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ﴿3﴾

    کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے اسے گڑھ لیا ہے۔۔ بلکہ یہ حق ہے آپ کے پروردگار کی طرف سے (اترا ہوا) تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے پاس آپ سے قبل کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا شاید کہ وہ لوگ راہ پر آجائیں۔
  4. اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ﴿4﴾

    اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پیدا کردیا چھ دنوں میں پھر وہ قائم ہوا تخت (شاہی) پر۔ اس کے سوا کوئی نہ تمہارا مددگار ہے اور نہ سفارشی سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟۔
  5. یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ﴿5﴾

    آسمان سے زمین تک وہی ہر امر کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر (یہ امر) اس کے پاس پہنچ جائے گا۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کی ہوگی۔
  6. ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ﴿6﴾

    وہی جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا زبردست ہے رحیم ہے
  7. الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ﴿7﴾

    وہی جس نے جو چیز بنائی خوب ہی بنائی۔ اور انسان کی پیدائش گارے سے شروع کی
  8. ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ﴿8﴾

    پھر چلائی اس کی نسل نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے۔
  9. ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ﴿9﴾

    پھر اسے درست کیا۔ اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ اور تم کو کان اور آنکھ اور دل دیئے تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
  10. وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ﴿10﴾

    اور کہتے ہیں کہ بھلا جب ہم زمین میں نیست ونابود ہوگئے تو کیا کہیں پھر ہم نئے جنم میں آئیں گے ؟۔ بات یہ ہے کہ لوگ اپنے پروردگار سے ملنے ہی کے منکر ہیں۔
  11. قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ع﴿11﴾

    آپ کہہ دیجئے تمہاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تم پر متعین کردیا گیا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
  12. وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ﴿12﴾

    اور اگر آپ دیکھیں تو عجب حال دیکھیں کہ جب کہ مجرم لوگ آپنے پروردگار کے سامنے سرجھکائے ہوئے ہوں گے اے ہمارے پروردگار (بس اب) ہمارے آنکھ کان ہوگئے۔ تو تو ہم کو پھر بھیج دے ہم نیک کام کیا کریں گے ہم کو پورا یقین آگیا۔
  13. وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴿13﴾

    اور اگر ہم کو (یہی) منظور ہوتا تو ہم ہر ایک کو اس کی (راہ) ہدایت دے ہی دیتے۔ لیکن میری یہ بات محقق ہوچکی ہے کہ میں دوزخ کو بھر کر رہوں گا جنات اور انسان سب سے۔
  14. فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿14﴾

    سولواب اس کا مزہ چکھو کہ تم اپنے اس دن کے آنے کو بھولے رہے تھے ہمنے تمہیں بھلائے میں ڈال دیا۔ اور اپنے کرتوتوں کے بدلہ ابدی عذاب کا مزہ چکھو
  15. اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩۩﴿15﴾

    ہماری آیتوں پر ایمان تو بس وہی لوگ لاتے ہیں کہ جن کو جب وہ یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد وتسبیح کرنے لگتے ہیں اور وہ لوگ تکبر نہیں کرتے
  16. تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ﴿16﴾

    ان کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں اپنے پروردگار کو وہ پکارے رہتے ہیں خوف سے اور امید سے اور جو کچھ ہم نے دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔
  17. فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿17﴾

    سو کسی کو علم نہیں جو جو (سامان) آنکھوں کی ٹھنڈک کا ان کے لئے (خزانہ غیب میں) مخفی ہے یہ صلہ ہے ان کے (نیک) اعمال کا۔
  18. اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ﴿18﴾

    تو کیا جو کوئی مومن ہے وہ اس جیسا ہے جو نافرمان ہے ؟ (نہیں) یکساں نہیں ہوسکتے۔
  19. اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿19﴾

    جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے سو ان کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانا جنتیں ہیں جو ان کے (نیک) اعمال پر بطور مہمانی کے ہیں۔
  20. وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ﴿20﴾

    اور جو لوگ نافرمان رہے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بھی وہ لوگ اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں ڈھکیل دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا دوزخ کا وہ عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
  21. وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿21﴾

    اور ہم انہیں قریب کا عذاب بھی علاوہ اس بڑے عذاب کے چکھا کر رہیں گے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں۔
  22. وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ع﴿22﴾

    اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جسے اس کے پروردگار کی نشانیاں یاد دلا دی جائیں اور پھر وہ ان سے منہ پھیرے رہے ہم مجرموں سے بدلہ لے کر رہیں گے
  23. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ﴿23﴾

    اور بالیقین ہم نے موسیٰ ؑ کو بھی کتاب دی تھی سو آپ اس (کتاب) کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجیے۔ اور ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا تھا۔
  24. وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ﴿24﴾

    اور ہم نے ان میں جب کہ انہوں نے صبر کیا پیشوا بنادیئے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے اور وہ لوگ ہماری آیتوں کا یقین رکھتے تھے۔
  25. اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿25﴾

    بیشک آپ کا پروردگار ان (سب) کے درمیان فیصلہ قیامت کے دن ان امور میں کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہتے تھے۔
  26. اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ﴿26﴾

    کیا یہ ان کی ہدایت کے لئے کافی نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتیں ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ آتے جاتے ہیں ان کے اندر (صاف) نشانیاں ہیں تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ؟۔
  27. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ﴿27﴾

    کیا انہوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم خشک افتادہ زمین کی طرف پانی پہنچاتے رہتے ہیں پھر اس کے ذریعہ سے کھیتی پیدا کردیتے ہیں جس سے ان کے مواشی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ؟۔
  28. وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿28﴾

    اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ (آخر) یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔
  29. قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ﴿29﴾

    آپ کہہ دیجیے (اس) فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا (ذرا بھی) نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
  30. فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ع﴿30﴾

    سو آپ ان کی باتوں کا خیال نہ کیجیے اور آپ انتظار کیجیے یہ بھی منتظر ہیں۔