30. Ar-Roomالروم

The Romans · Meccan · 60 ayahs · 6 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓمّٓۚ﴿1﴾

    الف۔ لام۔ میم۔۔
  2. غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ﴿2﴾

    اہل روم ایک قریب کی زمین میں مغلوب ہوگئے۔
  3. فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ﴿3﴾

    اور وہ اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب چند سال میں غالب آجائیں گے۔
  4. فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ﴿4﴾

    اختیار اللہ کو پہلے بھی تھا اور پیچھے بھی ہے اور اس روز اہل ایمان اللہ کی امداد پر خوش ہوں گے۔
  5. بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ﴿5﴾

    وہ جس کو چاہے غالب کردیتا ہے اور وہ زبردست ہے رحیم ہے۔
  6. وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿6﴾

    (یہ) اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنے کے خلاف نہیں کرتا البتہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔
  7. یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ﴿7﴾

    یہ لوگ صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے (محض) بیخبر ہیں۔
  8. اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ﴿8﴾

    کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب کو کسی حکمت ہی سے اور ایک میعاد معین تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کثرت سے لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں۔
  9. اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ﴿9﴾

    کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ یہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگذرے ہیں ان کا کیا انجام ہوا ہے وہ ان سے قوت میں بھی بڑے ہوئی تھے اور زمین کو بویا جوتا تھا اور اسے آباد کر رکھا تھا اس سے زیادہ جتنا انہوں نے اسے آباد کر رکھا ہے اور ان کے ہاں بھی ان کے پیغمبر معجزے لے کر آئے تھے سو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ تو خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے تھے۔
  10. ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿10﴾

    پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے برا کیا تھا برا ہی ہوا کہ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھے۔
  11. اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿11﴾

    اللہ ہی خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ بھی پیدا کردے گا پھر اسی کے پاس تم (سب) لائے جاؤ گے۔
  12. وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ﴿12﴾

    اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز مجرم بےآس ہوکررہ جائیں گے۔
  13. وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ﴿13﴾

    اور ان کے (گڑھے ہوئے) شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور یہ لوگ (خود) اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے ]
  14. وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ﴿14﴾

    اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز (سب لوگ) جداجدا ہوجائیں گے۔
  15. فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ﴿15﴾

    سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک عمل کئے تھے سو وہ باغ میں مسرور ہوں گے
  16. وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ﴿16﴾

    اور جن لوگوں نے کفر وتکذیب کی تھی ہماری نشانیوں سے اور آخرت کے پیش آنے سے سو وہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
  17. فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ﴿17﴾

    سو اللہ کی تسبیح کیا کرو۔ شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی
  18. وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ﴿18﴾

    اور آسمانوں اور زمین میں حمد اسی کی ہوتی ہے اور بعد زوال بھی اور ظہر کے وقت بھی۔
  19. یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ع﴿19﴾

    وہ باہر لاتا ہے جان دار کو بےجان سے اور باہر لاتا ہے بےجان کو جان دار سے اور زمین کو سرسبز کرتا ہے اس کے خشک ہونے کے بعد۔ اور اسی طرح تم لوگ باہر لائے جاؤ گے۔
  20. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ﴿20﴾

    اور اسی (اللہ) کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر تھوڑے ہی روز میں تم (سب) آدمی (بن کر زمین پر) پھیل گئے۔
  21. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿21﴾

    اور اسی کی نشانیوں میں ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے (یعنی میاں بیوی کے) درمیان محبت وہم دردی پیدا کردی بیشک اس میں ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو فکر سے کام لیتے رہتے ہیں۔
  22. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ﴿22﴾

    اور اس کی نشانیوں میں سے بنانا ہے آسمانوں اور زمین کا اور الگ الگ ہونا تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا بیشک اس میں (بھی) نشانیاں ہیں علم والوں کے لئے۔
  23. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ﴿23﴾

    اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا سونا ہے رات اور دن میں اور اپنے لئے اس کی (دی ہوئی) روزی کا تلاش کرنا ہے بیشک ان میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے سنتے ہیں۔
  24. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿24﴾

    اور اس کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے خوف کی راہ سے بھی اور امید کی راہ سے بھی اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس سے زمین کو شاداب کردیتا ہے اس کے خشک ہوجانے کے بعد بیشک اس میں نشانیوں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
  25. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ﴿25﴾

    اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تمہیں پکار کر زمین سے بلائے گا تو تم یک بارگی نکل پڑوگے۔
  26. وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ﴿26﴾

    اور اسی کی ملک ہیں جو کوئی بھی موجود ہیں آسمانوں اور زمین میں سب اسی کے تابع ہیں۔
  27. وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿27﴾

    اور وہ وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ (تو) اس کے لئے اور زیادہ آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی شان (سب سے) اعلی ہے۔ اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔
  28. ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿28﴾

    ) اللہ) تمہاریہی متعلق ایک مضمون تم سے بیان کرتا ہے۔ کیا تمہارے غلاموں میں کوئی تمہارا شریک ہے اس روزی میں جو ہم نے تم کو دی ہے کہ تم (اور وہ) اس میں برابر ہوجائیں (اور) تم ان کا ایسا ہی خیال کرو جیسا کہ تم اپنے آپس والوں کا خیال رکھتے ہو ؟ ہم اسی طرح دلائل صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
  29. بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿29﴾

    مگر اس پر بھی ظالموں نے بغیر دلیل کے اپنی خواہشات کا اتباع کر رکھا ہے۔ سو اسے کون راہ پر لاسکتا ہے جسے اللہ گمراہ کرے اور ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔
  30. فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ﴿30﴾

    تو تم یکسو ہوکر۔ دین (حق) کی طرف اپنا رخ رکھو اللہ کی اس فطرت کا اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی ہے سیدھا دین لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کا بھی) علم نہیں رکھتے۔
  31. مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ﴿31﴾

    اسی (اللہ) کی طرف رجوع ہو اور اس سے ڈرو اور نماز کی پابندی رکھو اور شرک کرنے والوں میں مت رہو
  32. مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿32﴾

    یعنی ان لوگوں میں جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور گروہ گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ نازاں ہے اس (طریق) پر جو اس کے پاس ہے۔
  33. وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ﴿33﴾

    اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اپنے پروردگار کو اسی کی طرف رجوع ہو کر پکارنے لگتے ہیں پھر جب (اللہ) انہیں اپنی طرف سے کچھ عنایت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو پھر ان میں سے بعض لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں
  34. لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴿34﴾

    کہ ہم نے انہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس سے ناشکری کرنے لگتے ہیں سو (خیر) وقتی حظ حاصل کرلو پھر عنقریب ہی تم جان لوگے۔
  35. اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ﴿35﴾

    کیا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری ہے وہ انہیں شرک کرنے کو کہہ رہی ہے
  36. وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ﴿36﴾

    اور ہم جب لوگوں کو کچھ عنایت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے ان اعمال کے بدلہ میں جو پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں تو بس وہ لوگ ناامید ہوجاتے ہیں۔
  37. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿37﴾

    کیا انہوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ ہی کھول کر روزی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور تنگ کرکے دیتا ہے (جس کو چاہتا ہے) بیشک اس (امر) میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں۔
  38. فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿38﴾

    سو (اے مخاطب) تو قرابت دار کو اس کا حق دیا کر اور (اسی طرح) مسکین اور مسافر کو۔ یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب رہتے ہیں اور یہی لوگ تو فلاح پانے والے ہیں۔
  39. وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ﴿39﴾

    اور جو چیز تم اس غرض سے دو گے کہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجائے۔ سو وہ اللہ کے آگے نہیں بڑھتی۔ اور تم جو صدقہ دو گے جس سے اللہ کی رضا طلب کرتے ہو گے تو ایسے ہی لوگ عنقریب بڑھاتے رہیں گے۔
  40. اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ع﴿40﴾

    اللہ ہی وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تم کو جلائے گا۔ کیا تمہارے شرکاء میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ وہ ”اللہ“ ان کے شرک سے پاک و برتر ہے
  41. ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿41﴾

    بلائیں پھیل پڑی ہیں خشکی وتری میں لوگوں کے کرتوت سے۔ اس غرض سے کہ اللہ ان کے بعض اعمال کا مزہ ان کو چکھائے تاکہ وہ لوگ باز آجائیں۔
  42. قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ﴿42﴾

    آپ کہیے کہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جو لوگ پہلے گذرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ہے اس میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔
  43. فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ﴿43﴾

    سو تو اپنا رخ دین مستقیم کی طرف کرلے۔ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کیلئے پھر اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا اس روز (سب لوگ) جدا جدا ہوجائیں گے۔
  44. مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ﴿44﴾

    جو کافر رہا ہے اس پر اسی کا کفر پڑے گا اور جو نیک عمل کررہا ہے سو ایسے لوگ اپنے لئے (نفع و راحت کا) سامان کررہے ہیں۔
  45. لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ﴿45﴾

    جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے (اللہ) انہیں اپنے فضل سے (نیک) جزا دے گا واقعی اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
  46. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿46﴾

    اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے خوش خبری دیتی ہوئی۔ اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کی لذت چکھائے۔ اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل کی تلاش کرو۔ تاکہ تم شکر ادا کرو۔
  47. وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿47﴾

    اور ہم نے آپ سے پہلے (بہت سے) پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے اور وہ ان کے پاس دلائل لے کر آئے پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لے لیا جو جرم کرتے رہے تھے۔ اور اہل ایمان کا غلبہ تو ہمارے ذمہ تھا۔
  48. اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ﴿48﴾

    اللہ ایسا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اٹھائے پھرتی ہیں پھر اللہ اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے۔ پھر تو مینہ کو دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے نکلتا ہے پھر اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے۔ تو بس وہ خوش ہونے لگتے ہیں
  49. وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ﴿49﴾

    درآنحالیکہ وہ لوگ قبل اس کے کہ اس خوشی سے قبل ان پر برسے بالکل مایوس ہورہے تھے۔
  50. فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿50﴾

    سوذرا رحمت الہی کے آثار کو دیکھو کہ اللہ زمین کو اس کے خشک ہونے کے بعد کس طرح شاداب کرتا ہے۔ بیشک وہی مردوں کا جلانے والا ہے۔ اور وہی ہر چیز پر (پوری) قدرت رکھنے والا ہے
  51. وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ﴿51﴾

    اور اگر ہم (کوئی اور) ہوا چلا دیں پھر یہ لوگ کھیتی کو زرد ہوا دیکھیں تو یہ اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں۔
  52. فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ﴿52﴾

    آپ مردوں کو تو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیرے چلے جارہے ہوں
  53. وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ع﴿53﴾

    اور آپ اندھوں کو بھی ان کی بےراہی سے راہ پر نہیں لاسکتے آپ تو بس انہیں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کو یقین رکھتے ہیں پھر وہ (انہیں) مانتے بھی ہیں۔
  54. اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ﴿54﴾

    (اور وہی) اللہ ہے جس نے تم کو (تمہاری) ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا پھر ناتوانی کے بعد توانائی عطا کی پھر توانائی کے بعد ناتوانی اور ضعیفی دی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور وہ خوب جاننے والا ہے ہر قدرت رکھنے والا ہے۔
  55. وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ﴿55﴾

    اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ قسم کھابیٹھیں گے (کہ) ہم لوگ تو ایک ساعت سے زیادہ رہے ہی نہیں۔ اسی طرح یہ لوگ الٹے چلتے رہتے تھے۔
  56. وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿56﴾

    اور جن لوگوں کو علم و ایمان عطا ہوا ہے وہ کہیں گے کہ تم نوشتہ الہی کے مطابق قیامت کے دن تک رہے سو یہی تو ہے قیامت کا دن البتہ تم ہی (اس کا) یقین نہیں کرتے تھے۔
  57. فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ﴿57﴾

    غرض اس روز ظالموں کو ان کا عذر کرنا (کچھ) نفع نہ دے گا اور نہ ان سے تدارک چاہا جائے گا۔
  58. وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ﴿58﴾

    اور ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کے مضمون بیان کئے ہیں۔ اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشان بھی لے کر آئیں تو بھی یہ لوگ جو کافر ہیں یہی کہیں گے کہ تم (لوگ) اہل باطل ہو۔
  59. كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿59﴾

    جو لوگ یقین نہیں رکھتے اللہ انکے دلوں پر اسی طرح مہر کردیا کرتا ہے۔
  60. فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ع﴿60﴾

    سو آپ صبر کیجیے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور جو لوگ بےیقین ہیں کہیں آپ کو بےبرداشت نہ کردیں۔