67. Al-Mulkالملك

The Sovereignty · Meccan · 30 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ﴿1﴾

    بڑی شان ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
  2. اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ﴿2﴾

    جس نے موت اور زندگی اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے، اور وہی ہے جو مکمل اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔
  3. الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ﴿3﴾

    جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے، تم خدائے رحمن کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں پاؤ گے۔ اب پھر سے نظر دوڑا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے ؟
  4. ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ﴿4﴾

    پھر بار بار نظر دوڑاؤ، نتیجہ یہی ہوگا کہ نظر تھک ہار کر تمہارے پاس نامراد لوٹ آئے گی۔
  5. وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ﴿5﴾

    اور ہم نے قریب والے آسمان کو روشن چراغوں سے سجا رکھا ہے، اور ان کو شیطانوں پر پتھر برسانے کا ذریعہ بھی بنایا ہے، اور ان کے لیے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
  6. وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿6﴾

    اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کا معاملہ کیا ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
  7. اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ﴿7﴾

    جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے دہاڑ نے کی آواز سنیں گے، او وہ جوش مارتی ہوگی۔
  8. تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ﴿8﴾

    ایسا لگے گا جیسے وہ غصے سے پھٹ پڑے گی۔ جب بھی اس میں (کافروں کا) کوئی گروہ پھینکا جائے گا تو اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟
  9. قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ﴿9﴾

    وہ کہیں گے کہ ہاں بیشک ہمارے پاس خبردار کرنے والا آیا تھا، مگر ہم نے (اسے) جھٹلا دیا، اور کہا کہ : اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا، تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم بڑی بھاری گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔
  10. وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ﴿10﴾

    اور وہ کہیں گے کہ : اگر ہم سن لیا کرتے اور سمجھ سے کام لیا کرتے تو (آج) دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔
  11. فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ﴿11﴾

    اس طرح وہ اپنے گناہ کا خود اعتراف کرلیں گے۔ غرض پھٹکار ہے دوزخ والوں پر۔
  12. اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ﴿12﴾

    (اس کے برخلاف) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بیشک مغفرت اور بڑا اجر ہے۔
  13. وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿13﴾

    اور تم اپنی بات چھپا کر کرو، یا زور سے کرو (سب اس کے علم میں ہے، کیونکہ) وہ دلوں تک کی باتوں کا پورا علم رکھنے والا ہے۔
  14. اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ع﴿14﴾

    بھلا جس نے پیدا کیا وہی نہ جانے ؟ جبکہ وہ بہت باریک بین، مکمل طور پر باخبر ہے۔
  15. هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ﴿15﴾

    وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو رام کردیا ہے، لہذا تم اس کے مونڈھوں پر چلو پھرو، اور اس کا رزق کھاؤ، اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔
  16. ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ﴿16﴾

    کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بےخوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے، تو وہ ایک دم تھر تھرانے لگے ؟
  17. اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ﴿17﴾

    یا کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بےخوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تم پر پتھروں کی بارش برسادے ؟ پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ؟
  18. وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ﴿18﴾

    اور ان سے پہلے جو لوگ تھے، انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا۔ پھر (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا تھا ؟
  19. اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ﴿19﴾

    اور کیا انہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر نظر اٹھا کر نہیں دیکھا کہ وہ پروں کو پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں، اور سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کو خدائے رحمن کے سوا کوئی تھامے ہوئے نہیں ہے۔ یقینا وہ ہر چیز کی خوب دیکھ بھال کرنے والا ہے۔
  20. اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ﴿20﴾

    بھلا خدائے رحمن کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے ؟ کافر لوگ تو نرے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
  21. اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ﴿21﴾

    اگر وہ اپنا رزق بند کردے تو بھلا وہ کون ہے جو تمہیں رزق عطا کرسکے ؟ اس کے باوجود وہ سرکشی اور بیزاری پر جمے ہوئے ہیں۔
  22. اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿22﴾

    بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل اوندھا چل رہا ہو، وہ منزل تک زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ جو ایک سیدھے راستے پر سیدھا سیدھا چل رہا ہو ؟
  23. قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ﴿23﴾

    کہہ دو کہ : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (مگر) تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔
  24. قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿24﴾

    کہہ دو کہ : وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اور اسی کے پاس تمہیں اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔
  25. وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿25﴾

    اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟
  26. قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿26﴾

    کہہ دو کہ : اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، اور میں تو بس صاف صاف طریقے پر خبردار کرنے والا ہوں۔
  27. فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ﴿27﴾

    پھر جب وہ اس (قیامت کے عذاب) کو پاس آتا دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے، اور کہا جائے گا کہ : یہ ہے وہ چیز جو تم مانگا کرتے تھے۔
  28. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿28﴾

    (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : ذرا یہ بتلاؤ کہ چاہے اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم فرما دے، (دونوں صورتوں میں) کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟
  29. قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿29﴾

    کہہ دو کہ : وہ رحمن ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں، اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے۔ چنانچہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
  30. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ع﴿30﴾

    کہہ دو کہ : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر کسی صبح تمہارا پانی نیچے کو اتر کر غائب ہوجائے تو کون ہے جو تمہیں چشمے سے ابلتا ہوا پانی لاکر دیدے ؟