آسان قرآن
Aasan Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 127
وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ﴿127﴾
- وَقَالَاور بولے
- الْمَلَاُسردار
- مِنْسے (کے)
- قَوْمِقوم
- فِرْعَوْنَفرعون
- اَتَذَرُکیا تو چھوڑ رہا ہے
- مُوْسٰيموسیٰ
- وَقَوْمَهٗاور اس کی قوم
- لِيُفْسِدُوْاتاکہ وہ فساد کریں
- فِيمیں
- الْاَرْضِزمین
- وَيَذَرَكَاور وہ چھوڑ دے تجھے
- وَاٰلِهَتَكَاور تیرے معبود
- قَالَاس نے کہا
- سَنُقَتِّلُہم عنقریب قتل کر ڈالیں گے
- اَبْنَآءَهُمْان کے بیٹے
- وَنَسْتَحْيٖاور زندہ چھوڑ دینگے
- نِسَآءَهُمْان کی عورتیں (بیٹیاں)
- وَاِنَّااور ہم
- فَوْقَهُمْان پر
- قٰهِرُوْنَزور آور (جمع)
Translation · Aasan Quran
اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا : کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو کھلا چھوڑ رہے ہیں، تاکہ وہ زمین میں فساد مچائیں، اور آپ اور آپ کے خداؤں کو پس پشت ڈال دیں ؟ (56) وہ بولا : ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور ہمیں ان پر پورا پورا قابو حاصل ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
56: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دھمکیاں تو دی تھیں ؛ لیکن حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے اور جادوگروں کے ایمان اور استقامت کو دیکھ کر حاضرین اور خاص طور پر بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد ایمان لے آئی کہ اس کو فوری طور سے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ماننے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا، اور جب مجمع درہم برہم ہوگیا تو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ماننے والے اپنے گھروں کو چلے گئے، اس موقع پر فرعون کے سرداروں نے یہ بات کہی جو یہاں مذکور ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے، رفتہ رفتہ یہ اپنی طاقت جمع کرکے آپ کے لئے ایک خطرہ بن جائیں گے، فرعون نے اپنی خفت مٹانے کے لئے ان کا جواب دیا کہ فوری طور پر چاہے میں نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی، مگر اب بنی اسرائیل کو ایک ایک کرکے ختم کروں گا، البتہ عورتوں کو اس لئے زندہ رکھوں گا کہ وہ ہماری خدمت کے کام آسکیں، اس نے اپنے آدمیوں کو یہ بھی یقین دلایا کہ حالات ہمارے قابو میں ہیں اور ہماری حکمت عملی ایسی ہے کہ ہمارے لئے کوئی بڑا خطرہ پیدا نہیں ہوگا، اس طرح بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے مومنوں کو تسلی دی کہ صبر سے کام لیتے رہو۔ آخری انجام انشاء اللہ تمہارے ہی حق میں ہوگا۔