Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 142

  1. وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ﴿142﴾

    1. وَوٰعَدْنَااور ہم نے وعدہ کیا
    2. مُوْسٰيموسیٰ
    3. ثَلٰثِيْنَتیس
    4. لَيْلَةًرات
    5. وَّاَتْمَمْنٰهَااور اس کو ہم نے پورا کیا
    6. بِعَشْرٍدس سے
    7. فَتَمَّتو پوری ہوئی
    8. مِيْقَاتُمدت
    9. رَبِّهٖٓاس کا رب
    10. اَرْبَعِيْنَچالیس
    11. لَيْلَةًرات
    12. وَقَالَاور کہا
    13. مُوْسٰيموسیٰ
    14. لِاَخِيْهِاپنے بھائی سے
    15. هٰرُوْنَہارون
    16. اخْلُفْنِيْمیرا خلیفہ (نائب) رہ
    17. فِيْ قَوْمِيْمیری قوم میں
    18. وَاَصْلِحْاور اصلاح کرنا
    19. وَلَا تَتَّبِعْاور نہ پیروی کرنا
    20. سَبِيْلَراستہ
    21. الْمُفْسِدِيْنَمفسد (جمع)
Translation · Aasan Quran
اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ ٹھہرایا (کہ ان راتوں میں کوہ طور پر آکر اعتکاف کریں) پھر دس راتیں مزید بڑھا کر ان کی تکمیل کی (64) اور اس طرح ان کے رب کی ٹھہرائی ہوئی میعاد کل چالیس راتیں ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ : میرے پیچھے تم میری قوم میں میرے قائم مقام بن جانا، تمام معامات درست رکھنا اور مفسد لوگوں کے پیچھے نہ چلنا۔
Tafseer · Aasan Quran
64: فرعون سے نجات پانے اور سمندر عبور کرلینے کے بعد کچھ واقعات اس جگہ بیان نہیں ہوئے، ان کی کچھ تفصیل سور مائدہ (20:50 تا 26) میں گذر چکی ہے۔ ان آیات کے حواشی میں ہم نے یہ تفصیل بقدر ضرورت بیان کردی ہے۔ اب یہاں سے دو واقعات بیان فرمائے جا رہے ہیں جو وادی تیہ (صحرائے سینا) میں پیش آئے جہاں بنی اسرائیل کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے چالیس سال تک مقید کردیا گیا (جس کا واقعہ سورة مائدہ میں گزارا ہے) اس دوران انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ اپنے وعدے کے مطابق ہمیں کوئی آسمانی کتاب لا کردیں جس میں ہمارے لیے زندگی گزارنے کے قوانین درج ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت فرمائی کہ وہ کوہ طور پر آکر تیس دن رات اعتکاف کریں۔ بعد میں کسی مصلحت سے یہ مدت بڑھا کر چالیس دن کردی گئی۔ اسی اعتکاف کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا، اور تورات عطا فرمائی جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔