Asrar-ut-Tanzil - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جس کو اللہ گمراہ کردیں تو اس کے لئے اس کے علاوہ کوئی (بھی) کارساز نہیں اور آپ ظالموں کو دیکھیں گے جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہتے ہوں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی صورت ہے ؟
آیات 44 تا 53۔ اسرار ومعارف۔ اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں نے آج قیامت کے دن خود کو نقصان میں رکھا اور اپنے گھروالوں کو بھی لے ڈوبے کہ وہ بھی انہی پر راہ چلتے تھے یادرکھو ایسے ظالم ہمیشہ کے عذاب میں رہیں گے اور کوئی ایسا حمایتی نہ پائیں گے جو ان کی کچھ بھی مدد کرسکے۔ ان سب لوگوں میں سے بھی نہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ پوجا کرتے تھے اور اللہ ہی جسے گمراہ کردے پھر اس کے لیے کوئی راہ باقی نہیں رہتی یعنی گناہ میں اس بات سے ڈرناچاہیے ، کہ کہیں ناراض ہو کر اللہ کریم ہدایت کی توفیق ہی سلب نہ کرے۔ اور لوگوں اللہ کی اور اللہ کے رسول کی دعوت قبول کرلو ایسانہ ہو کہ وہ دن آپہنچے جس دن اللہ کی بارگاہ میں پیشی ہو اور بچنے کا کوئی راستہ نہ ہو نہ کوئی ایسی ہستی نظر آئے جو یہ پوچھ ہی لے بھلا ان کو یہ سزا کیوں دی جارہی ہے۔ اور اے حبیب اگر یہ سب سن اور جان کر بھی آپ کی بات نہیں مانتے تو پھر آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ ان کی طرف سے فکرمند ہوں آپ کی ذمہ داری تو اللہ کا پیغام پہنچانے تک تھی سو آپ نے پوری کردی اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر انہیں تھوڑی سی نعمت عطا ہوجائے تو پھولے نہیں سماتے اور اکڑنے لگتے ہیں عطا کرنے والے کا شکر نہیں کرتے ہیں اور اگر ان کی بداعمالیوں کے باعث کوئی مصیبت آجائے تو اللہ کی ناشکری کرنے لگتے ہیں اور گناہوں سے توبہ نہیں کرتے یعنی لطف و راحت یابیماری ومصیبت ہر حال میں ان کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں اور محض لذات نفس کی خاطر زندگی بسر کیے جاتے ہیں۔ اللہ کو بھی ان کی پرواہ نہیں وہ ایسا حاکم ہے جس کی سلطنت ارض وسما پر محیط ہے ، اور وہ ہر شے کا خالق ہے جو چاہتا ہے جب چاہتا ہے پیدافرماتا ہے انسانوں میں تو جسے چاہے صرف بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہے بیٹے عطا کرتا ہے جسے چاہے بیٹیاں بیٹے دونوں طرح کی اولاد دیتا ہے۔ اور بعض کو بانجھ بنادیتا ہے کہ ان سے اولاد ہو ہی نہیں سکتی تو یہ نہ ماننے والے اس کی حکومت میں تو کچھ مداخلت نہیں کرسکتے وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر شے پر قادر ہے۔ کسی بشر میں موجودہ صورت میں تو یہ طاقت نہیں کہ اسے اللہ سے ہم کلام ہونے کا شرف نصیب ہو اس کے تین طریقے ہیں وحی کی بات اس کے دل میں القا کردے یا پردے کے پیچھے سے اسے آواز سنائی دے یاپھرفرشتہ اللہ کریم کی طرف سے وحی لے کرآئے۔ اللہ کی طرف سے کلام کے تین طریقے۔ پہلی صورت بات کو دل میں ڈال دینے کی ہے یہ جاگتے ہوئے بھی ہوسکتی ہے اور نیند میں بھی۔ انبیاء (علیہم السلام) کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں اور یہ دل میں ڈالنے یا القاء کی صورت ولی کو بھی نصیب ہوتی ہے جیسے ام موسیٰ (علیہ السلام) کو ہوئی جو نبی نہ تھیں ، اسی کو القا یا الہام کہتے ہیں نبی کو غلطی نہیں لگ سکتی جبکہ ولی کو لگ سکتی ہے اگر اسے ایسی بات سمجھ میں آئے جو نبی کی بات سے ٹکراتی ہو تو اس کی بات درست نہ ہوگی نبی کی بات ساری امت کو ماننا پڑتی ہے جبکہ ولی کی بات کے دوسرے لوگ مکلف نہیں ہوتے۔ دوسرا طریقہ پردے کے پیچھے سے آواز سنائی دینے کا ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر سنائی دیتی تھی مگر زیارت نہ ہوتی تھی تب ہی زیارت کے لیے دعا کی تو لن ترانی یعنی آپ اس حال میں دیکھ نہ سکیں گے ارشاد ہوا۔ اس لیے کوئی ایسا پردہ نہیں جس نے اللہ تعالیٰ کو چھپا رکھا ہو اور اپنے اندر سمولیا ہو بلکہ خود انسان کو قوت بصارت کی کمزوری زیارت حق کے لیے حجاب بن گئی ہے اس لیے آخرت اور جنت میں جب بینائی کو مضبوط اور طاقتور کردیاجائے گا تو دیکھ سکے گا یہ قانون دار دنیا کا ہے نیز کوئی فرشتہ بھی بالمشافہ ہم کلام نہیں ہوسکتا اور شب معراج اگر رسول اللہ کو زیارت ہوئی تو وہ اس عالم کی بات نہ تھی۔ وہ آسمانوں کے اوپر کا اللہ ہی جانے کونسا عالم تھا۔ اور تیسری صورت ہے کہ اللہ کریم فرشتے کو جبرائیل (علیہ السلام) کو کلام عطا کرکے روانہ فرمائے اور وہ پڑھ کر سنادے کبھی انسانی شکل میں آکر کبھی کشف میں نبی کو دکھائی دے کر۔ یہ کشف کی صورت کہ اسرار الٰہی کا مشاہدہ ہو بھی باتباع نبی اولیاء اللہ کو نصیب ہوتی ہے۔ اور اللہ بہت بڑی شان والا ہے جسے جو نعمت چاہے عطا کرے کہ وہ بہت بڑا حکمت والا ہے۔ ہرنبی ایمان پر پیدا ہوتا ہے۔ اسی اللہ کے حکم سے آپ پر وحی کا نزول ہوا اور آپ اللہ ہی کے بتلانے سے جانتے ہیں ورنہ آپ کو کتاب کے بارے میں کیا پتہ تھا اور ایمان کی تفصیلات اور اس کا یہ اعلی مقام جو وحی کے بعد ہے بھلا آپ کو اس کی کیا خبر تھی کہ باجماع امت ہر نبی ایمان پر پیدا ہوتا ہے اور قبل نبوت کا ایک خاص ولایت حاصل ہوتی ہے جسے راہ سلوک میں بھی ولایت انبیاء کہا جاتا ہے اور ولی ایسے داخل ہوسکتا ہے جیسے بادشاہ کے ساتھ محل میں خادم۔ انبیاء کو کفار نے طرح طرح کے طعنے دیے مگر کسی نبی کو یہ نہیں کہا کہ کل تک تو آپ بھی ہمارے ساتھ بتوں کو پوجتے تھے آج غلط کہہ رہے ہو اس لیے نبی پیداہی ایمان پر کیا جاتا ہے ہاں کمال ایمان وہ درجہ یقینا بہت بڑا ہے جو نزول وحی کے بعد ہوتا ہے۔ اور ہم نے اس وحی اور کلام باری کو ایک روشنی اور نور بنادیا ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں اس کی راہیں روشن کردیتے ہیں اور آپ تو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں وہ راستہ جو اللہ کا اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا راستہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کو ہر ہرشے کا مالک ہے اور ہر امر اسی کی طرف لوٹنے والا اور ہر ایک کو واپس اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔
Top