Baseerat-e-Quran - Al-Kahf : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور اللہ جس کو گمراہ کرے اس کے لئے اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں اور جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو اے مخاطب ! تو انہیں اس حال میں دیکھے گا کہ یوں کہہ رہے ہوں گے کہ کیا واپس کئے جانے کا کوئی راستہ ہے ؟
5:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) نے (آیت ) ” ھل الی مرد من سبیل “ (کیا دنیا میں واپس جانے کی کوئی صورت ہے) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ دنیا کی طرف (واپس جانے کی تمنا کریں گے )
Top