Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جس کو اللہ ہی گمراہ کر دے (اس کے خبث باطن کی بناء پر) تو اس کے لئے اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں اور (کل قیامت میں) تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ جب اس عذاب کو خود دیکھ لیں گے تو کہیں گے (ہائے افسوس) کیا اب واپس جانے کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے ؟
88 ہدایت و ضلالت کے بارے میں سنت الٰہی کا حوالہ : سو ہدایت و ضلالت کے بارے میں سنت الہٰی اور دستور خداوندی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس کو اللہ گمراہی میں ڈال دے اس کیلئے اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں ہوسکتا "۔ جو اس کو پھر راہ حق و ہدایت پر لاسکے۔ اور اللہ پاک کی طرف سے گمراہی کے گڑھے میں اسی کو پھینکا جاتا ہے جو اپنے اوپر ہدایت کے راستے اور اس کے دروازے خود بند کر دے ورنہ خدائے پاک تو اپنے کسی بندے پر ذرہ برابر بھی کوئی ظلم نہیں کرتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے خبث باطن اور سوئِ اختیار کی بنا پر ضلالت و گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے وہ خداوند قدوس کی توفیق بخشی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور جو کوئی خداوند قدوس کی توفیق و عنایت اور اس کی دست گیری سے محروم ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر اس کیلئے دوسرا کوئی کارساز نہیں ہوسکتا۔ سو جن لوگوں پر خدا کی مار پڑجائے انکو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔ 89 ظالموں کے انجام اور انکے حال بد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالم لوگ عذاب دیکھنے پر کہیں گے کہ " کیا اب واپس جانے کی کوئی سبیل ممکن ہوسکتی ہے ؟ "۔ تاکہ اب ہم وہاں جاکر ایمان اور عمل صالح کو اپنا کر تلافی مافات کرسکیں۔ مگر اب اس کا موقع کہاں ؟ ۔ { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْد } ۔ سو ظالم لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا اور انہوں نے اللہ کی ہدایت کی قدر نہیں کی بلکہ وہ راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اور آنکھیں بند کرکے اپنی خواہشات کے پیچھے ہی چلتے رہے سو ایسے ظالم اور محروم القسمت آج تو اپنی اس روش پر بہت نازاں اور بڑے خوش ہیں لیکن وقت آنے پر جب یہ عذاب کو دیکھیں گے اور اپنے کیے کرائے کے انجام سے دوچار ہوں گے تو اس وقت یہ بڑی حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کیا اب دنیا کی طرف پلٹنے کی کوئی سبیل ممکن ہوسکتی ہے ؟ تاکہ وہاں جاکر کمائی کریں اور اس عذاب سے چھوٹنے کا سامان کرسکیں۔ مگر اس وقت اس کا موقع کہاں اور کیونکر ؟ اس کا موقع تو انہوں نے خود ضائع کردیا ہوگا۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی امان و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Top