Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
یا ان کے لیے کچھ ایسے شریک ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی اور اگر فیصلہ شدہ بات نہ ہوتی تو ضرور ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک جو ظالم ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
(1) ام لھم شرکوآء شرعوا لھم …: ظاہر ہے اس آیت میں شرکوآء“ سے مراد وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے اور پوجا باٹ کرتے ہیں، کیونکہ وہ دین کا کوئی طریقہ مقرر کرسکتے ہیں نہ حلال و حرام قرار دینے میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ وہ کوئی قانون یا ضابطہ مقرر کرسکتے ہیں۔ لامحالہ اس سے مراد کوئی انسان یا انسانوں کی کوئی جماعت ہی ہے جنہوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلے میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو ، حرام و حلال قرار دینے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں اور لوگوں کے لئے ایسے نظام اور قانون مقرر کرتے ہوں جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہوں، پھر انھیں لوگوں میں رائج اور نافذ بھی کرتے ہوں۔ ایسے لوگ پارلیمنٹ یا ایوانوں کے ممبر بھی ہوس کتے ہیں ، خود سر حکمران بھی ، آستانوں اور مز اورں کے مجاور اور متولی بھی اور گمراہ قسم کے فلسفی اور مصنف بھی۔ علاوہ ازیں یہ شرکاء ایسے صالح اور متقی ائمہ بھی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا سوچ بھی نہ سکتے ہوں مگر لوگوں نے ان کے نام پر قرآن و سنت کے بالمقابل شریعت سازی کر کے انہیں اللہ کا شریک بنا رکھا ہو۔ شرک کسی بھی طرح کا ہو ظلم عظیم ہے، خواہ شرک فی العبادۃ ہو یا شرک فی الحکم۔ جس طرح وہ شخص مشرک ہے جو اللہ کے سوا کسی کی پوجا کرتا ہے، اس کی نذر و نیاز دیتا ہے، مصیبت کے وقت اسے پکارتا ہے، اسے حاجت روایا مشکل کشا سمجھتا ہے، خواہ کسی زندہ کی پوجا کرے یا مردہ کی جن کی کرے یا انسان یا فرشتے کی، قبر کی پوجا کرے بابت کی، اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں زندگی کا نظام بنانے کا یا قانون بنانے کا یا حلال و حرام قرار دینے کا اختیار دیتا ہے وہ بھی مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی قسم کا بھی شریک بنانے کی اجازت نہیں دی۔ (2) ولو لا کلمۃ الفضل لقضی بینھم : یعنی یہ شرک اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ایسی جسارت ہے کہ اگر لوگوں کو مہلت دینے کا فیصلہ نہ ہوتا اور یہ طے نہ کردیا گیا ہوتا کہ فیصلے قیامت کے دن ہوں گے تو دنیا ہی میں ان لوگوں پر عذاب آجاتا جو اللہ کے دین کے مقابلے میں اپنی شریعت اور قانون بناتے ہیں، یا ایسی شریعت کو قبول کر کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (3) وان الظلمین لھم عذاب الیم :”الظلمین“ میں الف لام عہد کا ہے، یعنی ان ظالموں کے لئے عذاب الیم ہے جو شرک کے ظلم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ عذاب الیم جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے اور جنت ان پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔ جیسا کہ فرمایا :(انہ من یشرک باللہ فقدم حرم اللہ علیہ الجنۃ وماولہ النار، وما للظلمین من انصار) (المائد 821)”بیشک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقیناً اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔“
Top