Al-Quran-al-Kareem - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
کہہ دے وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔
قُلْ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہیں کان ، آنکھیں اور دل عطاء فرمائے۔ اب پیدا کرنے کا شکرتو یہ تھا کہ صرف اسی کی عبادت کرتے اور کان ، آنکھیں اور دل عطاء فرمانے کا شکریہ تھا کہ انہیں وہیں استعمال کرتے جہاں یہ نعمتیں دینے والے کی رضا تھی اور ان کے ذریعے سے اس کی خوشنودی کا راستہ تلاش کرتے ، مگر تم نے نہ کانوں سے حق بات سنی ، نہ آنکھوں سے اللہ کی قدرتیں دیکھ کر عبرت پکڑی اور نہ دل سے اس کی توحید سمجھنے کی کوشش کی۔ بیشمار نعمتوں میں سے یہ تین نعمتیں اس لیے ذکر فرمائیں کہ یہ تینوں علم کے ذرائع ہیں ، انہی کے ذریعے سے آدمی کو حق تک پہنچ سکتا ہے۔ اس آیت میں خطاب کفار سے ہے اور ”قلیلا ما تشکرون“ (تم کم ہی شکر کرتے ہو) سے مراد یہ ہے کہ تم بالکل شکر ادا نہیں کرتے۔
Top