Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 12
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
لَهٗ : اس کے لیے ہیں مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ : کنجیاں ہیں آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَبْسُطُ : پھیلاتا ہے۔ فراخ کرتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور نپا تلا دیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کے ساتھ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے (اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا اور سنتا ہے
11، فاطرالسموات والارض جعل لکم من انفسکم ازواجا، تمہاری تخلیق کی مثل میں سے بیویاں ۔ کہا گیا ہے کہ ، من انفسکم، اس وجہ سے کہا ہے کہ حضرت حواء (علیہما السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا تھا۔ ، ومن الانعام ازواجا، مذکرو مؤنث کی اقسام ۔ ، یذرؤکم، تم کو پیدا کرتا ہے۔ ، فیہ، رحم میں ۔ اور کہا گیا ہے کہ فی باء کے معنی میں ہے یعنی ، یذرؤکم بہ، (تمہیں اس کے ذریعے پیداکرتا ہے) اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے، تمہیں نکاح کے ذریعے زیادہ کرتا ہے۔ ،۔۔۔۔۔۔ ، لیس کمثلہ شیء ، مثل صلہ ہے یعنی وہ کسی چیز کی طرح نہیں ہے۔ پس مثل کو تاکید کے لیے داخل کیا گیا ہے جیسے باری تعالیٰ کا قول ، فان امنوابمثل ماامنتم بہ، ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ کاف صلہ ہے۔ اصل عبارت یوں بنے گی۔ ، لیس مثلہ شیئ، (اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے) ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ ، وھوالسمیع البصیر،
Top