Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 12
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
لَهٗ : اس کے لیے ہیں مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ : کنجیاں ہیں آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَبْسُطُ : پھیلاتا ہے۔ فراخ کرتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور نپا تلا دیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کے ساتھ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے واقف ہے
(42:12) لہ : میں لام ملک و ملکیت کا ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ اسی کی ہے۔ اسی کی ملکیت ہے۔ مقالید السموت والارض۔ مضاف مضاف الیہ۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔ القلد القلد (باب ضرب) رسی بٹنا۔ قلدت الحبل میں نے رسی بٹی۔ بٹی ہوئی رسی کو قلید یا مقلود کہتے ہیں۔ قلادۃ اس بٹی ہوئی رسی کو کہتے ہیں جو گلے میں ڈالی جائے۔ جیسے ڈور، زنجیر وغیرہ۔ اسی سے باب تفعیل سے تقلید ہے۔ کسی مسئلہ میں تقلید کرنا۔ بےسوچے سمجھے پیروی کرنا۔ امام راغب (رح) نے لکھا ہے :۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حفاظت کی طرف اشارہ ہے جو تمامکائنات کو محیط ہے۔ یسبط : فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ بسط (باب نصر) مصدر۔ وہ کشادہ کرتا ہے۔ وہ وسیع کرتا ہے۔ وہ فراخ کرتا ہے۔ یقدر : مضارع واحد مذکر غائب قدر (باب ضرب) مصدر۔ وہ تنگ کرتا ہے ، وہ رزق تنگ کرتا ہے وہ اندازہ کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے فالتقی الماء علی امرقد قدر (54:12) تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر یا معین ہوچکا تھا (جس کا اندازہ کیا جاچکا تھا) جمع ہوگیا تھا۔ اور انہی معنوں میں کہتے ہیں قدرت علیہ الشیء میں اس پر کسی چیز کی تنگی کردی یعنی وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی۔ اس کے بالمقابل فراخی کرنا بسط ہے یا بغیر حساب (بےاندازہ) دینا ہے واللّٰہ یرزق من یشاء بغیر حساب (2:212) اور اللہ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ اور تنگی کے معنی میں آیا ہے ومن قدر علیہ رزقہ (65:7) اور جس کے رزق میں تنگی کی گئی ہو۔ یا جس کے رزق میں تنگی ہو۔ آیت ہذا میں یقدر : ای یقدر لمن یشائ۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ علیم : علم سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ بہت بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ خداوند تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے قرآن مجید میں بیشتر مقامات پر علیم کا استعمال اللہ تعالیٰ کی صفت میں ہی وارد ہوا ہے اس وقت اس کا مطلب ہوگا : سب سے زیادہ عالم
Top