Al-Qurtubi - Ash-Shura : 12
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
لَهٗ : اس کے لیے ہیں مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ : کنجیاں ہیں آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَبْسُطُ : پھیلاتا ہے۔ فراخ کرتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور نپا تلا دیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کے ساتھ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے واقف ہے
لہ مقالیدالسموات والارض اس کی وضاحت سورة زمر میں گذر چکی ہے۔ نحاس نے کہا : جو چابیوں کا مالک ہوتا ہے وہ خزانوں کا بھی مالک ہوتا ہے (3) ۔ مفتاح کو اقلید کہتے ہیں اس کی جمع خلاف قیاس آتی ہے جس طرح حسن کی جمع خلاف قیاس محاسن آتی ہے یبسطالرزق۔۔۔۔ اس کی بحث کئی مواقع پر گذرچ کی ہے۔
Top