Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 6
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ عَذَابُ : عذاب ہے جَهَنَّمَ : جہنم کا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنا برا ہے ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے
5 ۔” ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح “ مراد زمین سے قریب والا ہے جس کو لوگ دیکھتے ہیں اور اس کا قول ” بمصابیح “ ستارے اس کا واحد مصباح ہے اور وہ چراغ ہے ستارے کا نام چراغ رکھا گیا۔ اس کے روشنی دینے کی وجہ سے ” وجعلناھا رجوما “ تیر پھینکنے کے آلے ہیں۔ ” للشیاطین “ جب وہ بات کو چوری سننے لگیں۔ ” واعتدنا لھم “ آخرت میں۔ ” عذاب السعیر “ بھڑکائی ہوئی آگ۔
Top