Tafseer-e-Haqqani - Al-Mulk : 6
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ عَذَابُ : عذاب ہے جَهَنَّمَ : جہنم کا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنا برا ہے ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
اور جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
ترکیب : عذاب جہنم مبتداء وللذین کفروا خبرمقدم وقریٔ عذاب بالنصب انہ عطف علی عذاب السعیر وللذین علی لھم۔ شہیقا منصوب علی انہ مفعول سمعوا الھا فی محل النصب علی الحال ای کائنا لھا وھی تفور الجملۃ حال من الضمیر فی فیھا۔ تکاد الخ الجملۃ ما حال من فاعل تفوراوخبرآخر کلھا استیناف مسوق لبیان حال اھلھا بعد بیان حال نفسھا وقیل حال من ضمیرھا بلی کان یکفی فی الجواب ولکن حبائوا بالجملۃ المجاب بھا مبالغۃ فی الاعتراف قدجاء نا الخ فسحقا قریٔ الجمہور باسکان الحاء وقریٔ بضبمھا وھما نعتان مثل الرعب منصوب قال الزجاج وابوعلی الفارسی منصوب علی المصدر ای سحقھم اللہ سحقا وکان القیاس اسحاقا فجاء المصدر علی الحذف والسحق العبد۔ تفسیر : ان شواہد کے بعد پھر مسئلہ معاد کو شروع کرتا ہے اور اس کے لیے مناسبت یہ تھی کہ شیاطین کے لیے عذاب السعیر تیار کرنا فرمایا تھا اس مناسبت سے شیاطین کے سوا اور جس قدر کفارومشرکین ہیں ان کا بھی انجام کار بیان فرماتا ہے۔ فقال وللذین کفروابربہم عذاب جہنم، کہ ان کے لیے جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا جہنم کا عذاب ہے جو بری جگہ ہے۔ رب کا لفظ مربی اور محسن کے ہم معنی ہے پھر دیکھئے جو اپنے مربی و محسن کا انکار کرے اس کے لیے عذاب جہنم نہ ہو تو اور کیا ہو۔ اس لفظ نے عجب لطف پیدا کردیا۔ انکار کرنا ایک تو یہی معمولی انکار ہے کہ اس کے رسول ﷺ کو نہیں مانا یا اس کے احکام کو نہ مانا، صفات توحید و تنزیہ کے خلاف اعتقاد کیا۔ انہیں باتوں کے مرتکب کو کافر کہا جاتا تھا شرک بھی اسی میں آگیا۔ دوسرا سرے سے اس کی ذات کا انکار کرنا کہ خدا تعالیٰ ہی نہیں جیسا کہ دہریہ کہتے ہیں یہ سب لوگ کافر سمجھے جاتے ہیں اور اس کی نعمتوں کی ناشکری اور گلہ گزاری بھی ایک قسم کا کفر یا کفران ہے ایسے لوگوں کے لیے یہی عذاب جہنم ہے گو ابدی نہ ہو۔ اس کے بعد اذا القوا سے لے کر فسحقاً لاصحاب السعیر تک جہنم اور جہنمیوں کے کچھ حالات خوفناک بیان فرماتا ہے۔ (1) کہ جب یہ کفار اس میں ڈالے جائیں گے تو بجائے خیرمقدم و مرحباً و اہلاً و سہلاً کے جہنم کی آوازیں سنیں گے جو اس کے جوش سے نکلتی ہوں گی۔ جب آگ زیادہ گرم اور تیز ہوتی ہے تو اس کے شعلوں میں سے ایک مہیب صدا آیا کرتی ہے اسی طرح جہنم کی آواز ہوگی۔ وہ تنور جب زیادہ گرم ہوگا جس کو جوش اور غصہ کرنے اور غصے سے پھٹے پڑنے کو استعارۃً تعبیر کیا ہے تو اس کی دور دراز سے ہیبت ناک آوازیں آئیں گی العیاذ باللہ۔ (2) کلما 1 ؎… جب جہنم میں ایک گروہ داخل ہوگا تو ان سے جہنم کے داروغہ یعنی فرشتے پوچھیں گے کہ کیا دنیا میں تمہارے پاس کوئی نذیر (ڈرانے والا) نہیں آیا اور تم کو اس گمراہی سے نہیں روکا جس کے سبب آج اس بلا میں گرفتار ہوئے ؟ (نذیر خدا کا رسول اور اس کی کتاب یا اس کے نائب ‘ علمائ ‘ واعظین۔ اور جہاں کہیں یہ نہ آئیں تو وہاں احکام شریعہ پر مؤاخذہ نہیں وہاں نذیر عقل و فکر اور آیات قدرت میں غوروفکر ہی نذیر ہے جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا حکم دیتا ہے وہاں صرف توحید ہی کافی ہے۔ اور عمر کا تبدل حوادث دہر ‘ موت اقران و امثال بھی خدا کا نذیر ہے جو بندہ کو خواب غفلت سے بیدار کر کے عالم جاودانی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مگر یہ غفلات شہوات کے ایسے گراں تودوں میں دبا ہوا ہے کہ سر بھی نہیں اٹھا سکتا۔ ) کفار فرشتوں کے جواب میں کہیں گے بلیٰ کیوں نہیں قدجاء نا نذیر۔ بیشک ہمارے پاس نذیر آیا۔ فکذبنا لیکن ہم نے جھٹلا دیا۔ فائدہ : ہر نذیر کی تکذیب اسی کے موافق ہے۔ رسول اور کتابوں کی تکذیب ان کو نہ ماننا یا ان کے احکام و ہدایات کو قبول نہ کرنا جیسا کہ کفار کرتے تھے۔ ہائے دنیا میں جو ہادی اصلاح کرنے آیا لوگوں نے پھولوں کی جگہ ان کی راہ میں کانٹے بھی ڈالے یا حسرۃً علی العباد مایاتیہم من رسول الاکانوابہ یستہزئون۔ یا ان کے نائبوں حضرات علماء کرام کی تکذیب ان کو نہ ماننا، ان سے تمسخر کرنا، ان کی عیب جوئی کرنا، ان پر بہتان لگا کر ان کے اعتبار میں فرق ڈالنا وغیرہ۔ نذیر عقل کی تکذیب ‘ آیات الہٰیہ و حوادث دہر میں غوروتدبر نہ کرنا اور توحید و خدا پرستی پر نہ چلنا، رسوم و شہوات میں پڑا رہنا، بت پرستی و بدکاری سے باز نہ آنا۔ عمر کے تبدل ‘ موت ‘ اقران و انقلابات دہر کے نذیر کی تکذیب عبرت نہ کرنا، عالم جاوداجانی سے غافل رہنا اس حسی اور فانی جہان کی چیزوں پر مفتون ہونا ہے۔ ہائے افسوس اس نذیر کو ہم کس طرح جھٹلا رہے ہیں۔ بیماری یا مصیبت خدا تعالیٰ کا ایک نذیرآیا تھا اس کے بعد پھر ہم انہیں ظلمات میں مبتلا ہوگئے۔ اقارب و احباب سامنے مرتے ہیں، یہ بھی ایک نذیر ہے جو ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے ؎ تمہیں ہے چلنی عدم کی منزل کہ جس میں کھٹکا قدم قدم ہے نسیم جاگو کمر کو باندھو اٹھاؤ بستر کہ رات کم ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہی مرگئے اور دنیا میں ان کا نام و نشان مٹ گیا، بھلا ہم کب مرنے والے ہیں۔ وقلنا…کفار کہیں گے ہم نے صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ دیا۔ مانزل اللہ من شیئٍ کہ خدا نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی نہ کتاب بھیجی نہ احکام نہ حوادث و مصائب یہ تو فلاں سبب سے ہوا اور موت یوں آئی، افلاس یوں آگیا تھا۔ اقبال اس لیے جاتا رہا تھا، بیماری اس وجہ سے گئی تھی۔ یہ امور اسباب پر مبنی تھے، خدا نے کیا کیا ؟ ان انتم الافی ضلال کبیر۔ اے جو تم نذیر کہلاتے ہو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ خدا نے کتاب بھیجی، رسول بھیجا، احکام بھیجے، اس کو کیا پڑی تھی جو وہ ایسا کرتا ؟ گناہوں سے مصیبت آئی وبازنا سے بھیجی قحط بھیجا، بیماری بھیجی، اس نے کچھ نہیں بھیجا، یہ پرانے خیالات اور جہالت کی باتیں ہیں۔ اول تو خدا ہی کہاں ہے اور ہے بھی تو وہ اس عالم میں کیا کرسکتا ہے ؟ یہاں تک کفار کی گفتگو تھی 1 ؎۔ جو دوزخ میں فرشتوں سے بطور اقرار جرم کریں گے۔ فائدہ : اگرچہ نذیر واحد ہے مگر ایک نذیر کا بھی وہی مقصد ہے جو دوسرے کا تھا اس لیے انتم جمع کے لفظ سے سب کا انکار تھا۔ فائدہ : بعض مفسرین کہتے ہیں یہ جملہ ان انتم الافی ضلال کبیر۔ دوزخ کے فرشتوں کا ہوگا، کفار کی تقریر سن کر کہ اے بدنصیبو ! تم بڑے گمراہی میں تھے۔ یا اب بڑی مصیبت میں پڑے ہو۔ مصیبت و عذاب جو ضلالت کے سبب آتا ہے اس پر بھی ضلال کا لفظ مجازاً محاورہ عرب میں مستعمل ہوتا ہے لیکن اول قول قوی ہے۔ اس کے بعد فرشتے کہیں گے، کیا تم نے کسی ناصح کی بات نہ سنی، یا تم کو ازخود عقل نہ تھی جو خدا کے نذیروں کو جھٹلایا جس کے سبب اس بلا میں پڑے تب کفار کہیں گے۔ وقالوالوکنا نسمع اونعقل ماکنا فی اصحاب السعیر۔ کہ اگر ہم کسی ناصح کی بات سنتے یا خود عقل کرتے تو آج کا ہے کو دوزخیوں میں ہوتے۔ ا ؎ آج کل نئی روشنی والوں اور ان کے مرید فرقہ آریہ لوگوں کی یہی گفتگو ہے جس کی غلطی کا اقرار ہمارے سامنے کب کرسکتے ہیں، وہیں دوزخ کے فرشتوں کے سامنے کریں گے۔ 12 منہ تقلید و اجتہاد : انسان کی صلاح کے دو ہی طریق ہیں۔ اول اور آسان یہ کہ کسی ناصح اور ہادی کی بات سن کر مان لے۔ یہ تقلید کا مرتبہ ہے اس لیے اس کو مقدم کیا۔ دوم یہ کہ خود عقل سلیم سے غوروتدبیر کرے۔ یہ اجتہاد کا مرتبہ ہے۔ پھر جس کو دونوں باتیں نصیب نہ ہوں تو اس کے برباد ہونے میں کیا شک ہے۔ فائدہ : کفار دنیا میں سنتے تھے، عقل بھی رکھتے تھے، ہزاروں ایجاد و اختراع کرتے تھے مگر آخرت کے بارے میں یہ دونوں باتیں نہ تھیں گویا بہرے اور بےعقل تھے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ فاعترفوا بذنبہم فسحقًا لاصحاب السعیر۔ کہ قیامت میں یا جہنم میں اپنے جرم کا اقرار کیا۔ سو پھٹکار اور لعنت ہے دوزخیوں پر۔ دوزخ میں جا کر اقرار کیا۔ پھر اس کا کیا فائدہ ؟ دنیا میں کرتے تو لعنت کے بدلے رحمت ہوتی۔ فوائد : اول : ان آیات میں مسئلہ معاد کی نہایت پراثرواقعات کے بیان میں تصویر کھینچی بالخصوص معاد کے متعلق ایک گروہ اشقیا کا حال اور اس کے ٹھکانے کی ہیبت خیز کیفیت بیان فرمائی اور بئس المصیر کی پوری توضیح کردی کہ وہ جگہ ایسی ہے کہ آگ کے شعلوں میں سے ہیبت ناک آوازیں سنائی دیں گی اور جہنم غصہ کی ماری پھٹی پڑتی ہوگی اور وہاں دوزخ کے فرشتے جہنمیوں سے سوال کریں گے کہ کیا دنیا میں تمہارے پاس کوئی رسول نہیں آیا جو تم کو اس مصیبت سے بچنے کی راہ بتاتا۔ اس ضمن میں مسئلہ نبوت کی بھی تصریح کردی کہ دنیا میں اس کام کے لیے آتے ہیں اور جو ان کو نہیں مانتے اس کو یہ عذاب الیم ہمیشہ کے لیے بھگتنا پڑتا ہے اور یوں حسرت و افسوس سے اپنے ہاتھ کاٹنے اور دانت پیسنے پڑتے ہیں۔ نبی کی تصدیق و اطاعت کے لیے اس سے بڑھ کر مخاطبین کے واسطے اور کوئی بیان پراثر ہو نہیں سکتا۔ کلام میں ان مقاصد کو ملحوظ رکھنا اور دلکش عبارت میں بیان کرنا اعجاز ہے۔ دوم : شروع سورة میں بیان کیا گیا تھا کہ اس کے قبضے میں ملک ہے یعنی وہی بادشاہ حقیقی ہے۔ پھر جس طرح لوازم سلطنت میں سے قدرت کاملہ اور حیات و ممات پر قبضہ سات آسمانوں کا گھر بنانا اور کس خوبی سے بنانا اور پھر اس کو تاروں کی قندیلوں سے روشن کرنا اور اس کا خ کے چوروں کو تاروں سے مار کر ہانکنا بیان فرمایا تھا جس میں سراسر رحمت اور برکت کا اظہار تھا۔ اسی طرح شیاطین اور ان کے بعد بنی آدم کے کفار و منکرین کا جہنم کے قیدخانے میں ڈالنا بیان فرما کر جو سراسر جبروت و اقتدار شاہانہ کی دلیل ہے۔ اس کے بعد فرمانبرداروں کے اعزازو اکرام بیان فرماوے گا۔ بقولہ وللذین یخشون ربہم بالغیب لہم مغفرۃ الخ۔ اس تمامی بیان سے بہت سے مذاہب اور عقائدِ فاسدہ کی اصلاح ورد ہے۔ کس لیے کہ جو لوگ دنیا میں خدا کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں یا اس کی خدائی میں حصے دار ٹھہراتے ہیں جیسا کہ عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اس کا بیٹا اور خدائی کمیٹی کا تیسرا رکن قرار دیتے ہیں اور جس طرح کہ ہنود اپنے اوتاروں کو خدا اور قادر مطلق سمجھتے ہیں یا بعض لوگ ملائکہ و دیگر ارواح طیبات کو اس درجے پر مانتے ہیں ان کا ملک میں کون سا حصہ ہے ؟ کس نے آسمان و زمین بنانے میں مدد کی ہے اور کس کا موت وحیات پر قبضہ ہے اور کون قادر مطلق ہے ؟ ان کے یہ الٰہ دنیا میں بہت باتوں میں عاجز 1 ؎ تھے اور اسی طرح آخرت میں کسی کا کیا حصہ ہے۔ کون اس کے قیدخانے سے زبردستی چھڑا سکتا ہے، کون وہاں انعام و اکرام دے سکتا ہے ؟ یہ سب دلائل وبراہین توحید خالص کے لیے ایسے ہیں کہ جن میں کسی کو بھی مجالِ دم زدن نہیں اور اسی طرح جو لوگ کواکب و نیرات کی پرستش کرتے ہیں اور ان کی تاثیر سے سعادت و نحوست ‘ موت وحیات سمجھتے ہیں جیسا کہ مجوس اور فرقہ صابیہ ان کی بھی کمال تسلی ہے کہ تمہارے معبود ہمارے بنائے ہوئے مسخر ہیں۔ وہ کیا کرسکتے ہیں ؟ الغرض مسئلہ معاد نبوت میں بھی الٹ پھیر کر پھر مسئلہ توحید کو ثابت کردیا۔ اور نیز دنیا کے مغروروں ‘ متکبروں کو بھی سمجھا دیا کہ تم اپنی شاہی اور حکومت پر ناز کر کے ہم سے سرکشی نہ کرو، تمہاری بادشاہی ہمارے مقابلہ میں کیا چیز ہے، تم کو قدرت کیا ہے۔ تم موت وحیات کے کیا مالک ہو، تم نے آسمان و ستارے کہاں بنائے ہیں، علویات پر تمہاری کیا حکومت ہے ؟ لہٰذا ہماری طرف رجوع کرو، سرِنیاز جھکاؤ ورنہ جہنم کا قیدخانہ تیار ہے۔ سوم : مسلمانوں کا فرقہ مرجیہ کہتا ہے کہ وللذین کفروا کی تخصیص سے ثابت ہوتا ہے کہ جہنم میں کفار ہی جائیں گے، مومن نہ جائیں گے، خواہ وہ کیسے ہی گنہگار کیوں نہ ہوں۔ ایمان کے بعد کوئی عمل بد جہنم میں نہیں لے جاسکتا۔ یہ عیسائیوں کے عقیدے کے قریب قریب ہے لیکن یہ خیال غلط ہے کس لیے کہ کفروا کا لفظ بڑا وسیع ہے، کفار شرعی کو بھی شامل ہے اور جو ایماندار ہو کر اس کی ناشکری کرتے ہیں ان کو بھی گو ان کو ابدی جہنم نہ ہوگا ایمان کی بدولت۔ اور نیز دیگر آیات و احادیث میں تصریح ہے کہ ایماندار گنہگاروں کو بھی بقدر گناہ عذاب ہے لیکن عذاب دائمی نہیں اور یہ مسئلہ علم کلام میں نہایت صراحت سے مذکور ہے جو چاہے وہاں دیکھے۔ ا ؎ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بقول نصاریٰ یہود کے ہاتھ میں گرفتار ہوئے، سولی پر لٹکانے گئے، وہاں بہت روئے پیٹے کہ اے خدا ! مجھے چھڑا مگر نہ چھٹ سکے پھر ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے، کھانا کھاتے، سوتے جاگتے تھے۔ الغرض تمام خصائصِ بشریہ میں جکڑے ہوئے تھے جو عجزوحدوث کے آثار ہیں اسی طرح ہنود کے اوتار اور جمیع مذاہب کے معبودوں کا حال ہے خواہ علویات میں سے ہوں خواہ سفلیات میں سے پتھر و مٹی ‘ تانبے، سونے چاندی کے بت ہوں یا ارواح طیبات وملائ کہ ہوں سب مخلوق ہیں، صفت الوہیت میں کسی کو بھی حصہ نہیں۔ 12 منہ
Top