Maarif-ul-Quran - Al-Mulk : 6
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ عَذَابُ : عذاب ہے جَهَنَّمَ : جہنم کا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنا برا ہے ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے
عقوبت وتنبیہ برانکار توحید رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وللذین کفروا بربھم ............ الی ........... فسحقا لاصحب السعیر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں خداوند کریم کی عظمت وکبریائی کا بیان تھا اور اس کی قدرت وخالقیت دلائل و شواہد سے ظاہر فرمائی گئی تو اب ان آیات میں ان لوگوں پر وعید ہے جو اسکی الوہیت سے انکار کرتے ہیں اور اسکی وحدانیت پر ایمان نہیں لائے فرمایا۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اپنے رب کا انکے واسطے عذاب جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جس کی شدت وہیبت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ جب بھی یہ لوگ اس میں ڈالیں جائیں گے سنیں گے اس کے دھاڑنے کی آواز جو نہایت ہی ہولناک ہوگی اور وہ جہنم سمندر کی طوفانی موجوں کی طرح تھپیڑے مارتی ہوئی ہوگی قریب ہوگا کہ وہ جہنم اپنی لپٹوں اور بھاپ کی شدت سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور پھٹ پڑے اس کے جوش اور شدت اشتعال کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوگا کہ اب پھٹ پڑے گی جب بھی اس میں کسی گروہ کو ڈالا جائے گا تو اسکے داروغہ پوچھیں گے ان سے کہ کیا تمہارے پاس نہیں آیا تھا کوئی عذاب خداوندی سے ڈرانے والا کہ تم کو اس عذاب جہنم سے ڈراتا اور تم اب اس مصیبت میں مبتلا نہ ہوتے کہیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا مگر ہم نے اس کو جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی اور بجائے اس کے کہ ان کی تصدیق کرتے ان پر ایمان لاتے ہم تو اپنی بدبختی سے یہ کہنے لگے تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو اور وہ جہنمی یہ بھی کہیں گے نہایت ہی حسرت اور ملال کے ساتھ اے کاش اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوئے اللہ کے پیغمبر کی باتوں اور ان کی نصیحتوں کو تو ہم نہ ہوتے جہنمیوں میں سے مگر نہ تو ہم نے کبھی کان لگا کر ان کی بات سنی اور نہ عقل سے سوچا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہم جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو اس طرح وہ اعتراف کریں گے اپنے جرم کا، لیکن اس وقت حسرت وافسوس اور اعتراف گناہ سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اس لیے اعلان، ہوگا بس دھکے دو جہنم والوں کو اس طرح ملائکہ ان کو دھکیل کر اور گھیسٹ کر جہنم میں پھینک دیں گے سورة زمر میں ان مضامین کی تفصیل گزر چکی۔ اہل جہنم کے ساتھ اس طرح کی گفتگو صرف ان پر حجت قائم کرنے کے لئے ہوگی اور یہ بات ظاہر کرنے کے لیے کہ خداوند عالم کسی کو بغیر جرم کے عذاب نہیں دیتا اور جرم ایسا کہ خود مجرم بھی اس کا اعتراف کرلیں ابوالبختری الطائی (رح) بعض صحابہ کرام کرام ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ لن یھلک الناس حتی یعذ روا من انفسھم وفی حدیث اخر لا یدخل النا احد الا وھو یعلم ان النار اولی بہ من الجنۃ۔ حاشیہ 1 (تفسیر ابن کثیر ج 4) ہرگز لوگ ہلاک نہیں ہوں گے جب تک ان کی طرف سے ان کا عذر ختم نہ کردیا جائے گا اور ایک روایت میں ہے ہرگز کوئی شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا مگر اس طرح کہ وہ جان لے گا کہ واقعی جہنم ہی اس کے واسطے درست ہے، (آیت) ” تکاد تمیز من الغیظ “۔ کے الفاظ جہنم کا منظر سمندر کی موجوں کی شکل میں پیش کررہے ہیں کہ جس طرح دیکھنے والا سمندر میں پانی کی موجیں اور تھپیڑے دیکھتا ہے بس یہی جہنم میں آگ کے تھپیڑوں کا ہوگا۔ (آیت) ” ان انتم الخ “۔ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ کلمہ (آیت) ” ان انتم الا فی ضلال کبیر “۔ جہنم کے داروغہ اور فرشتوں کا ہوگا جو اہل جہنم کو تو بیخ اور دھمکی کے طور پر کہتے ہوں گے ، (آیت) ” فکذبنا “ کی تفسیر وہی ہے جو سورة یسین میں (آیت) ” یحسرۃ علی العباد “۔ کی گزر چکی اور تکذیب کو صرف رسول ہی کی تکذیب تک محدود رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میں ان ہادیان امت کی تکذیب بھی شامل ہے جو امت کی جزاء و سزاء کی باتیں سنائیں اللہ اور اس کے رسول کا پیغام پہنچائیں لیکن ان کی بات ماننے کی بجائے کفر ونافرمانیوں پر قائم رہنا بدکاریوں کفر وشرک جیسے کاموں میں مبتلا رہنا عملا تکذیب ہے اس طرح قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق اور زمانہ کے انقلابات سے عبرت حاصل نہ کرنا بھی تکذیب ہے عالم جاودانی سے غفلت و لاپرواہی اور عالم محسوس یعنی دنیا کی لذتوں اور نفس کی خواہشات پر مفتون ہوجانا روح کے تقاضوں کو فراموش کردینا غرض یہ سب شعبے تکذیب ہی کے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ایسے افراد زبان سے تو دعوی کرتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں اور ان کا عمل اس کی تردید وتکذیب کرتا ہے گویا ان لوگوں کی عملی زندگی بنی اسرائیل اور یہود کی طرز زندگی کا پیکر ہوتی ہے (آیت) ” سمعنا وعصینا “ کہ سن لیا ہے ہم نے مگر ہم نافرمانی ہی کریں گے۔ (آیت) ” قدجآء نا نذیر “ میں موت کے مناظر بھی دیکھنا ہے کہ مرنے والوں کو مرتے ہوئے دیکھ کر بھی ہمیں آخرت کی فکر نہ ہوتی تھی اور اسی طرح دنیا میں منہمک رہتے تھے،۔
Top