Mazhar-ul-Quran - Al-Mulk : 6
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ عَذَابُ : عذاب ہے جَهَنَّمَ : جہنم کا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنا برا ہے ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
اور1 جنہوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا (خواہ انسان ہوں یا جنات) ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا ذکر اور جو نہ بچے اس کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسول کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیاجائے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنادشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں نہ آئیں ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آئے گا اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھردیاجائے گا، اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتے کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کے اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکرآن پڑے۔ اس لیے وہ فرتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ کے انتظام کے موافق کیا اللہ کے رسولوں نے اس دن کی آفت سے تم لوگوں کو نہیں ڈرایا، وہ دوزخی جواب دیں گے کہ اللہ کے رسولوں نے تو ہم کو ڈرایا تھا مگر ہم نے اپنی کم بختی کے سبب سے اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو نہ مانا، بلکہ ان سے کہہ دیا کہ تم خود بہکے ہوئے ہوجوہم کو ہمارے باپ دادا کے طریقہ سے جدا طریقہ سکھاتے ہو، پھر پچھتا کر یہ بھی کہیں گے کہ اگر دنیا میں ہم رسولوں کی نصیحت کو مان لیتے اور شیطان کے بہکاوے کے وقت کچھ خدا کی دی ہوئی عقل سے کام لیتے تو آج ہم اس بلا میں نہ پڑتے۔ مگر اس وقت کا پچھتانا اور گناہوں کا اقرار کرنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے یہ پھٹکار ملے گی کہ اے کم بختو، دور ہو اللہ کی رحمت سے ، ایسے نافرمان دوزخ کے مستحق ہیں جن کا اس وقت کا پچھتانا اور گناہوں کا اقرار کرنا اللہ کی جناب میں ہرگز قابل قبول نہیں۔ ” شھیق کے معنی “۔ شھیق کا معنی خوفناک آواز کے ہیں یہ دوزخ کا دھاڑنا اور خوفناک آوازوں کانکالنا اس وقت ہوگا جب کافروں میں سے کوئی گروہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ یہود یا نصاری کافر یا مشرکین وغیرہ وغیرہ تو وہ اس وقت اس دوزخ کی آوز سنیں گے جیسے گدھا رینگتا ہے، بڑی ہیبت ناک آواز سے چیختی ہوگی جوش میں ابل رہی ہوگی کافرو کے اوپر ایسے غصہ اور طیش میں ہوگی کہ آپے سے باہر ہوگ، قریب ہوگا کہ جوش خروش سے غیظ وغضب سے پھٹ پڑے۔ مسند امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب شیطان مردود ٹھہرایاجاکر آسمان سے اتاراجانے لگا تو اس نے قسم کھاکر اللہ کے روبرویہ بات کہی کہ جب تک ہی آدم کے دم میں دم ہے میں ہر وقت ہر طرح کے بہکانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھاکر اس مردود سے فرمایا کہ تیرے بہکانے گناہ کرکے جب تک وہ خالص دل سے توبہ استغفار کریں گے میں بھی ان کے گناہوں کے بخش دینے میں کبھی کوتاہی نہ کروں گا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، غرض شیطان کی دشمنی تو ایسی پکی ہے کہ وہ اس دشمنی پر خدا کے روبرو حلف اٹھاچکا ہے ایسے پکے دشمن کے پھندے میں پھنس کر باقتضائے بشریت آدمی سے جب کوئی گناہ ہوجائے تو اس مرض کی دوا سے جس کا ذکر اس حدیث میں ہے آدمی کو ہرگز غافل نہیں رہنا چاہیے ، تاکہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرتے کرتے دل پر اس کے زنگ لگ جانے کی نوبت نہ آجائے جس کا ذکر ویل المطففین میں آتا ہے ، جس زنگ سے دل بالکل مرجاتا ہے ، اور بغیر موت کے آنکھوں کے سامنے آجانے کے ایسے مردے دل آدمیوں کو توبہ کی توفیق ہرگز نہیں ہوتی، اور یہ تو سورة نساء میں گذرچکا ہے کہ ایسی ناامیدی کے وقت کی توبہ بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہوتی۔
Top