بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Asrar-ut-Tanzil - Al-Qasas : 1
فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ
فَلَمَّا : پھر جب جَآءَهُمْ : آیا ان کے پاس مُّوْسٰي : موسیٰ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کے ساتھ بَيِّنٰتٍ : کھلی۔ واضح قَالُوْا : وہ بولے مَا هٰذَآ : نہیں ہے یہ اِلَّا : مگر سِحْرٌ : ایک جادو مُّفْتَرًى : افترا کیا ہوا وَّ : اور مَا سَمِعْنَا : نہیں سنا ہے ہم نے بِهٰذَا : یہ۔ ایسی بات فِيْٓ : میں اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِيْنَ : اپنے اگلے باپ دادا
یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکم آجائے، اسی طرح ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے تھے، اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے
1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ سے مراد ہے فرشتے ان کے پاس موت کے ساتھ آئیں اور دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ “ الانفال آیت 5) ان فرشتوں سے مراد ملک الموت اور دوسرے معاون فرشتے ہیں (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور وہ قیامت کا دن (مراد ہے) 2:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ یعنی موت کے وقت (ان کے پاس فرشتے آجائیں) یہاں تک کہ ان کی روح قبض کرلیں۔ (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور یہ ہوگا قیامت کے دن۔
Top