Dure-Mansoor - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
جس نے پیدا کیا موت کو اور حیات کو تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون شخص عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے اور وہ عزیز ہے، غفور ہے
21۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا وہ ذات جس نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا تاکہ تم کو آزمائے کہ کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔ یعنی کون تم میں اچھا ہے موت کو یاد کرنے کے لحاظ سے اور اس کی تیاری کرنے کے لحاظ سے اور اس سے خوف اور ڈرنے کے لحاظ سے۔ 22۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت الذی خلق الموت والحیوۃ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو ذلیل کیا موت کے سبب اور دنیا کو بنادیا زندگی کا گھر پھر موت کا گھر۔ اور آخرت کو بنادیا بدلے کا گھر اور پھر باقی رہنے کا گھر۔ 23۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے آیت الذی خلق الموت والحیوۃ کے بارے میں روایت کیا کہ زندگی جبریل (علیہ السلام) کا گھوڑا ہے۔ اور موت چتکبرا مینڈھا ہے۔ 24۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موت کو پیدا فرمایا چتکبرا مینڈھے کی صورت میں حالانکہ وہ سیاہی اور سفیدی کے ساتھ چھپا ہوا ہے اس کے چار پر ہیں ایک پر عرش کے نیچے ہے ایک پر نمناک مٹی کے نیچے ہے، اور ایک پر مشرق میں اور ایک پر مغرب میں ہے۔
Top