Tafseer-e-Haqqani - Al-Mulk : 19
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرند اڑتے نہیں دیکھے (جو اڑنے میں) پر کھولتے اور بیٹھتے ہیں جن کو رحمن کے سوا کوئی نہیں تھام رہا۔ بیشک وہ ہر چیز کا نگراں ہے۔
ترکیب : او الھمزۃ للاستفہام والواو للعطف علی مقدر ای اغفلواولم ینظروا الی الطیر جمع طائر و یقع علی الواحد والجمع قال ابن الابناری الطیر جمع طائر و تانیثھا اکثر من تذکیرھا ولایقال للواحد طیربل طائر قلما یقال للانثی طائرۃ۔ فوقہم ظرف لصافات اوعال وصافات حال من الطیر اومن الضمیر فی فوقہم۔ ویقبضن معطوف علی صافات حملاً علی المعنٰی ای ویقبضن اوصافاتٍ وقابضاتٍ ۔ مایمسکھن یجوزان یکون مستانفا ان یکون حالامن الضمیر فی یقبضن امن قریٔ الجمہور بتشدید المیم علی ادغام میم ام فی میم من وام بمعنی بل من الاستفہامیۃ مبتداء ھذا خبرہ الذی موصول یرزتکم صل تھا لمجموع صفۃ ھذا ینصرکم صفت لجندٍ ومن دون الرحمن فی محل النصب علی الحال من فاعل ینصرکم ان امسک رزقہ جواب الشرط محذوف لدلالۃ ماقبلہ علیہ ای ان امسک رزقہ فمن یرزقکم غیرہ لجو من اللجاج ھوتقحم الامرمع کثرۃ الصوارن عنہ والعتوا لعناد والطغیان الشرودواقل ابن عباس فی عتو و نفورای فی ضلال۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ کیا تم اس کے ارضی و سمادی عذاب سے نڈر ہوگئے ؟ اس کے بعد ولقد کذب الذین من قبلہم سے اس امر پر ایک شہادت کی تھی۔ اب اس پر ایک برہان پیش کرتا تھا اور اپنی قدرت کاملہ کا تصرف آسمان و زمین کے سوا فضا یعنی ہوا میں بھی دکھاتا ہے۔ فقال اولم یروا الی الطیر فوقہم۔ کہ کیا وہ اپنے اوپر پرندوں کی ٹکڑیاں اڑتے نہیں دیکھتے۔ صافات پر کھولے ہوئے ویقبضن اور سمیٹے ہوئے اڑنے میں پرند پروں کو کھول دیتا ہے اور جب اس کو اڑنے میں زور دینا ہوتا ہے تو پروں کو سمیٹ بھی لیتا ہے یعنی دونوں حالتوں میں اڑتا اور ہوا میں معلق رہتا ہے، نیچے نہیں گرتا۔ مایمسکھن الا الرحمن ان کو رحمن کے سوا اور کوئی تھامے ہوئے نہیں۔ اسی کا یدقدرت ان کے ادھر بھی تھامے رہتا ہے یعنی ان کے اجسام میں (ہر چند چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں) اسی نے ایک ایسا ہلکاپن رکھا ہے جو باوجود پر سمیٹنے کے بھی ہوا میں اڑے چلے جاتے ہیں اور دوسرے اجسام گو ان سے چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں اس طرح ادھر میں نہیں ٹھہر سکتے۔ دیکھو اس کی ہوا اور فضا پر بھی بادشاہت ہے۔ فائدہ (1) : نحاس کہتے ہیں کہ جب پرند اپنے بازو کھول کر اڑتے ہیں تو ان کو صاف کہتے ہیں اور جب سمیٹ لیتے ہیں تو قابض کہتے ہیں۔ فائدہ (2): صافات کا مقابلہ قابضات اسم فاعل کا صیغہ نہیں لایا گیا بلکہ یقبضن مضارع کا استعمال ہوا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ پرندوں میں اڑتے وقت پر پھیلائے رہنا اکثر یہ بات ہے اور پر سمیٹ لینا اور پر مارتے اڑنا گاہے گاہے جو مضارع کے تجدد و حدوث سے مفہوم ہوتا ہے برخلاف اس کے اسم فاعل دوام و ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ فائدہ (3): پھر جو ایسی بوجھل چیزوں کو ہوا میں معلق دوڑانے پر قادر ہے کیا وہ اوپر سے پتھراؤ نہیں کرسکتا ؟ یا زمین کے رہنے والوں کو زمین میں نہیں دھنسا سکتا ؟ لیکن انہ بکل شیئٍ بصیر وہ ہر شے کو دیکھ رہا ہے اور اس کی نگہبانی کر رہا ہے۔ ہوا میں اڑتے ہوئے پرندوں کا بھی وہی نگہبان ہے اور زمین اور اس کے رہنے والوں کا بھی وہی نگہبان ہے۔ اگر ذرا بھی اپنی نگہبانی چھوڑ دے تو ہر چیز ہلاک ہوجائے۔ بڑے بڑے کر ات کس تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں ان کا بھی نگہبان یا گاڈ ہے۔ آپس میں لڑنے نہیں دیتا۔ دریا میں بڑے بڑے جہاز اور کشتیاں دوڑتی پھرتی ہیں ان کا بھی وہی نگہبان ہے، انسان کا وجود اور اس کی حیات میں خلل انداز چیزوں کی روک تھام اسی کا کام ہے۔ ایک کو رباطن ان سب باتوں کو اسباب سے جانتا ہے، روشن ضمیر مسبب الاسباب سے سمجھتا ہے، توحید و شرک ‘ کفرو اسلام میں یہی فرق ہے۔ کافر اپنے اسباب پر مغرور رہتا ہے وہ انہیں کو اپنے فتح و نصرت کا لشکر سمجھتا ہے اس لیے ان کے مقابلہ میں فرماتا ہے، امن ھذا الذی ھو جندلکم ینصرکم من دون الرحمن۔ بھلا بتاؤ تو سہی کہ وہ تمہارا کون سا لشکر ہے جو تم کو رحمن کے مقابلہ میں مدد دے سکے گا ؟ وہ جب چاہتا ہے ان اسباب میں کھنڈک ڈال دیتا ہے۔ ریل گاڑی کو الٹا دیتا ہے، تار کو روک دیتا ہے، دریا میں آگبوٹوں کو ڈبو دیتا ہے باوجود صفائی کے وبا کا لشکر بھیج کر ستیاناس کرا دیتا ہے، لشکروں کے دلوں میں ضعف و خوف ڈال دیتا ہے، عقلیں مار دیتا ہے پھر جو سوجھتی ہے الٹی ہی سوجھتی ہے۔ پھر وہاں کوئی تدبیر نہیں چلتی، کوئی سبب کام نہیں آتا۔ اس کے بادلوں کے لشکر اور ہوا کے توپخانے اور آسمانی پتھروں کے گولے اور زلزلے کا ڈائنامیٹ تھوڑی سی دیر میں کچھ سے کچھ کردیتا ہے۔ بارہا مشاہدہ کیا ہوگا۔ الغرض سب تدبیریں بگاڑ دیتا ہے پھر وہاں کوئی کام نہیں آسکتا۔ اسباب ظاہریہ کے سوا عرب کے جاہل بلکہ عموماً اور ملکوں کے جاہل بھی اپنے خیالی معبودوں اور ان کی عجائب تاثیروں کو ہر مصیبت کے وقت اپنا یارومددگار سمجھتے تھے بلکہ اب تک سمجھتے ہیں۔ اپنی جان اور اولاد اور مال کی حفاظت اور ترقی کہیں ستاروں پر محول کرتے ہیں، کہیں غیرمرئی ارواح کے سپرد کرتے ہیں ‘ کہیں ٹوٹکوں اور منتروں کے تاثیرات سے مرض و بلا کا دفعیہ سمجھتے ہیں اور خدائے قادر کو چھوڑ کر ان چیزوں کی طرف دوڑے جاتے ہیں اس لیے فرماتا ہے ان الکافرون الافی غرور کہ کافر محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، اس کے سوا کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اسلام انسان کو ان بکھیڑوں سے نجات بخش دیتا ہے۔ کسی کی التجا کرنی اور اس کو پوجنے کے دو ہی سبب ہوتے ہیں، اول دفع مضرت کہ ہماری مصیبت کو روک دے گا، سو کفار و مشرکین کا اپنے خیالی معبودوں کی نسبت یہ بھی خیال تھا جس کو امن ھذا الذی ھو جندلکم ینصرکم من دون الرحمن میں رد کردیا اور پورا رد کردیا۔ دوسرا سبب نفع کی امید کہ اس سے یہ فائدہ پہنچے گا، یہ دے گا، وہ دے گا۔ سو کفارومشرکین کو اپنے الٰہ باطلہ کی نسبت یہ بھی خیال تھا کہ کسی سے رزق روزی مانگتے تھے، کسی سے اولاد، تندرستی طلب کرتے تھے۔ اس خیال کا ابطال اس جملہ میں کرتا ہے۔ امن ھذا الذی یرزقکم 1 ؎ ان امسک رزقہ کہ بتاؤ وہ کون ہے جو تم کو رزق روزی یا کچھ بھی دے سکے اگر وہ اپنا رزق یا بخشش روک لے ؟ کوئی نہیں کس لیے کہ سب اس کے سوا ممکن ہیں جو اپنی ذات وصفات ہی میں اس کے محتاج ہیں۔ صرف بارش بند کرلے تو معلوم ہوجائے۔ سب کچھ جانتے ہیں۔ بل لجوفی عتو و نفور۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی پر اڑے ہوئے ہیں۔ لجاج اڑنا، انسان میں دو قوت عمدہ ہیں۔ پہلی عملیہ، دوسری علمیہ۔ پس عتو حرص دنیا کے سبب سے ہے جو قوت عملیہ کے بطلان پر دلالت کرتا ہے اور نفور حق کے جہل کے سبب جو بطلان قوت علمیہ پر دلیل ہے یعنی ان بدنصیبوں نے اپنی دونوں قوتوں کو خراب کردیا اس لیے ہٹ کرتے ہیں۔ ا ؎ یرزق روزی دیتا ہے کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے اور کبھی مطلق دینے کے معنی میں بھی خواہ رزق دینا یا اولاد و تندرستی دینا کہتے ہیں۔ رزقنی اللہ اولاد اور اموالا رزقہ اللہ صلاحا۔ یہاں یرزقکم عام معنی میں مراد لیا جائے تو نہایت مناسب ہے۔ 12 منہ
Top