Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 19
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
کیا یہ لوگ اپنے اُوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمٰن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ 29 وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ 30
سورة الْمُلْک 29 یعنی ایک ایک پرندہ جو ہوا میں اڑ رہا ہے، خدائے رحمن کی حفاظت میں اڑ رہا ہے۔ اسی نے ہر پرندے کو وہ ساخت عطا فرمائی جس سے وہ اڑنے کے قابل ہوا۔ اسی نے ہر پرندے کو اڑنے کا طریقہ سکھایا۔ اسی نے ہوا کو ان قوانین کا پابند کیا جن کی بدولت ہوا سے زیادہ بھاری جسم رکھنے والی چیزوں کا اس میں اڑنا ممکن ہوا۔ اور وہی ہر اڑنے والے کو فضا میں تھامے ہوئے ہے، ورنہ جس وقت بھی اللہ اپنی حفاظت اس سے ہٹا لے وہ زمین پر آ رہے۔ سورة الْمُلْک 30 یعنی کچھ پرندوں ہی پر موقوف نہیں، جو چیز بھی دنیا میں موجود ہے اللہ کی نگہبانی کی بدولت موجود ہے وہی ہر شے کے لیے وہ اسباب فراہم کر رہا ہے جو اس کے وجود کے لیے درکار ہیں، اور وہی اس بات کی نگرانی کر رہا ہے کہ اس کی پیدا کردہ ہر مخلوق کو اس کی ضروریات بہم پہنچیں۔
Top