Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 19
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
کیا انہوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو پر پھیلائے نہیں دیکھا جو کبھی سمیٹ لیتے ہیں (حالانکہ) ان کو رحمن کے سوا کوئی نہیں جو تھامے ہوئے ہو ؟ بلاشبہ وہ ہرچیز کو دیکھ رہا ہے
کیا انہوں نے اپنے سروں کے اوپر کبھی پرندوں کو اڑتے نہیں دیکھا ؟ 19 ؎ غور و فکر ہی ایک چیز ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد اپنے ماحلو میں دیکھتا رہے اور ایک ایک چیز پر غور کرے کہ وہ کیوں ہے اور کیسے ہے ؟ وہ خود قائم ہے یا اس کا کوئی قائم کرنے والا ہے۔ اگر کوئی قائم کرنے والا ہے تو وہ کون ہے ؟ زیر نظر آیت میں لوگوں کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کیا تم نے کبھی ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو تمہارے سروں پر اور تمہارے اردگرد تم کو اڑتے نظر آ رہے ہیں ، کبھی پر کھولتے ہیں اور کبھی سمیٹتے ہیں لیکن نہ تو پر پھیلاتے ہوئے گرتے ہیں اور نہ ہی ان کو ساکن کرتے ہوئے گرتے ہیں۔ آخر ان کو اللہ تعالیٰ کے سوا جو رحمن بھی ہے کون ہے جس نے روک رکھا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ ان پرندوں کو اڑنے کے لئے موزوں پر کس نے دیئے ہیں۔ اس فضا میں یہ ہوا کس نے بھر دی ہے ، ان پرندوں کو پروں سے اڑنا کس نے سکھایا ہے اور ان کی فطرت میں یہ بات کس نے رکھ دی ہے کہ اس طرح ان کو کھولنے اور سمیٹنے سے یہ ہوا تم کو زمین پر پھینک نہیں دے گی بلکہ اس وقت تک تم کو تھامے رکھے گی جب تک تمہارے ارادے میں اڑنا ہوگا اور یہ ارادہ تم کو کس نے دیا ہے اور یہ ڈھنگ کس نے سکھایا ہے ؟ ان سارے سوالوں کا جواب ایک اور صرف ایک ہے کہ ” اللہ تعالیٰ ہی نے ان پرندوں کو بنایا ہے اور اسی نے ان کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے اس ہوا کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ان کو روک کر رکھنے والا ہے اور اسی نے یہ سارے انتظامات کئے ہیں ، وہی اللہ ہے ، وہی رحمن ہے۔ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ عرض کی جا چکی ہے کہ رحمن کے نام سے مکہ کے لوگ بہت الرجک تھے اور انہوں نے برملا کہہ دیا تھا کہ یہ رحمن کون ہے جس کا نام لیا جاتا ہے ؟ تو ان کی تفہیم کرائی گئی کہ رحمن اللہ تعالیٰ ہی کا صفاتی نام ہے جیسا کہ اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں اور اس کے بعد جس بات سے ان کو چڑ تھی اس کو بار بار قرآن کریم نے استعمال کیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ صحیح اور درست بات کو کسی کے چڑنے سے چھوڑا نہیں جاسکتا اور جس کو چڑ ہو اس سے الجھنے کی بھی ضرورت نہیں ہاں ! خاموشی کے ساتھ اس بات کو اور اس کام کو کرتے چلے جانا ہے لاریب یہ صحیح ہے کہ کسی کو مت چھیڑو لیکن یہ موقف بھی ہرگز ہرگز نہ بدلو۔ جس کو حق سمجھتے ہو اس کو کسی مصلحت کے تحت نہ چھپائو اور نہ باطل کے ساتھ ملائو اور ان پاپولر لوگوں کی بات بالکل تسلیم نہ کرو لیکن یہ تسلیم نہ کرنا اپنے عمل سے ثابت کرو نہ کہ کسی بحث سے اور یاد رکھو کہ بحث و تمحیث میں الجھنے والے نکمے اور بدعمل لوگ ہوتے ہیں اگر تم نے یہ بات یاد رکھی تو انشاء اللہ العزیز رحمن کا ذکر بار بار آنے کی اصل حقیقت کو تم جان جائو گے اور اس کے ساتھ ہی مزید بہت سی چیزوں سے پردہ اٹھ جائے گا۔
Top