Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 19
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
کیا ان لوگوں نے خود اپنے اوپر (اڑتے پھرتے) ان پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ جو کبھی پر پھیلائے ہوتے ہیں اور کبھی وہ ان کو سکیڑ لیتے ہیں کوئی نہیں جو ان کو روک سکے (اس طرح کھلی فضاء میں) سوائے (خدائے) رحمان کے بلاشبہ وہ ہر چیز کو پوری طرح دیکھ رہا ہے
24 فضا میں اڑتے پرندوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے کبھی ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر فضا میں اڑتے ہیں جو کبھی پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سکیڑے ہوئے ؟ اور یہ دیکھنا ان ظاہری آنکھوں سے نہیں کہ اس طرح تو ہر کوئی دیکھتا ہے جانور بھی دیکھتے ہیں ‘ بلکہ دل کی اور باطن کی آنکھوں سے اور عبرت و اعتبار کی نیت و نگاہ سے دیکھنا ‘ تاکہ ان کو حق اور حقیقت تک رسائی حاصل ہوتی اور سیدھی راہ ملتی ‘ اور اس طرح یہ لوگ بچ جاتے گمراہی اور اپنے برے انجام سے ‘ پس اللہ کی مخلوق میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لینا ایک اہم مقصد ہے ‘ سو یہ لوگ اگر اپنے سروں کے اوپر اڑتے پھرتے ان پرندوں ہی کو دیکھ لیتے اور انہی میں نگاہ عبرت و اعتبار ڈال لیتے تو ان کو چشم کشا درسہائے عبرت و بصیرت ملتے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان پرندوں کو فضا میں کوئی نہیں روک سکتا سوائے خدائے رحمٰن کے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو ان کے گرنے سے بچائے حالانکہ ثقل اجسام کا طبعی تقاضا ہے کہ وہ زمین پر آ رہیں، سو اس سے اندازہ کرو کہ کیسا قادر و حکیم ہے وہ معبود برحق جس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے یہ اجسام ثقلیہ اس طرح فضاؤں میں گھومتے پھرتے ہیں اور ہر ایک اپنے انداز میں محو گردش ہے۔ اور پرندوں کا یہ ذکر بطور مثال ہے۔ ورنہ اس کائنات کی ہر چیز کا حال یہی ہے اور وہ اسی قادر مطلق کے تھامنے سے تھمی ہوئی ہے۔ سو تم لوگ ان پرندوں کی مال ہی پر کائنات کی ہر چیز کو قیاس کرلو اس فضائے لامتناہی میں پائے جانے والے لامتناہی کواکب و نجوم اور ثوابت و ستارے اسی قادر مطلق کی توجہ اور عنایت سے ٹکے ہوئے ہیں۔ اسی نے ان سب کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے سنبھال رکھا ہے۔ خدائے رحمان کے سوا کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے مایمسکہن الا الرحمٰن ان میں سے ایک بھی اگر گرپڑے تو اس پوری کرہ ارض کو تہس نہس کر دے لیکن اس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت سے ہر ایک اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے۔ " کل فی فلک یسبحون " والحمد للہ جل و علا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ابن محمد آمین
Top