Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 19
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں پر نظر نہیں کی کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں اور سمیٹ بھی لیتے ہیں انہیں کوئی اور نہیں تھامے رہتا ہے بجز خدائے رحمن کے، وہی ہر چیز کو خوب دیکھے بھالے ہوئے ہے،15۔
15۔ (اور جس میں جو تصرف چاہے، اپنے حسب مرضی ومشیت کرتا رہتا ہے) پرندوں کی قوت پرواز، ان کا وہ ہوا کی موجوں کو چیرتے ہوئے جانا، ان کا وہ اتنی بلندیوں پر اپنے جسم کا توازن قائم رکھنا، یہ سب انسان کے لئے کیسے حیرت انگیز مشاہدات ہین، اور ان سے کیسا سبق حق تعالیٰ کی صناعی کا ملتا ہے۔
Top