Jawahir-ul-Quran - An-Nahl : 27
قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ
قَدْ مَكَرَ : تحقیق مکاری کی الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے فَاَتَى : پس آیا اللّٰهُ : اللہ بُنْيَانَهُمْ : ان کی عمارت مِّنَ : سے الْقَوَاعِدِ : بنیاد (جمع) فَخَرَّ : پس گر پڑی عَلَيْهِمُ : ان پر السَّقْفُ : چھت مِنْ : سے فَوْقِهِمْ : ان کے اوپر وَاَتٰىهُمُ : اور آیا ان پر الْعَذَابُ : عذاب مِنْ : سے حَيْثُ : جہاں سے لَا يَشْعُرُوْنَ : انہیں خیال نہ تھا
پھر قیامت کے دن رسوا کرے گا23 ان کو اور کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن پر تم کو بڑی ضد تھی بولیں گے جن کو دی گئی تھی خبر بیشک رسوائی آج کے دن اور برائی منکروں پر ہے
23:۔ تخویف اخروی ہے۔ یعنی دنیا میں بھی انہیں حق کے خلاف منصوبہ بازی کی سزا دی گئی اور آخرت میں بھی انہیں سرِ محشر ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو رسوا کرنے، ان کی اور ان کے معبودوں کی بےبسی ظاہر کرنے کے لیے ان سے سوال کرے گا کہ آج وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کی وجہ سے تم میرے پیغمبروں سے جھگڑا کرتے تھے۔ ” قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الخ “ اہل علم سے انبیاء (علیہم السلام) اور مؤمنین مراد ہیں جو دنیا میں مشرکین کو دعوت توحید دیا کرتے تھے (روح) یعنی آج آخرت میں صرف وہی لوگ رسوا ہوں گے جو دنیا میں دعوت توحید کو رد کیا کرتے تھے اور غیر اللہ کو کارساز اور عندہ اللہ شفیع غالب سمجھتے تھے۔
Top