Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ تیری نگاہ ذلیل ہوکر اور تھک کر تیری طرف لوٹ کآئے گی۔
(4) پھر بار بار نگاہ کو دوہرا کر دیکھ اور بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ تیری نگاہ ذلیل اور درماندہ ہوکر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ یعنی پہلی مرتبہ کے بعد دو مرتبہ دیکھنے کا پھر حکم فرمایا یعنی تین مرتبہ دیکھنے کا حکم دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں مقصود بار بار دیکھنے کی تاکید ہے کہ عالم علوی کی اس صنع میں جس کو آسمان کہتے ہیں کوئی عیب نکالنے کی غرض سے اس پر تنقیدی نظر ڈالو سوائے اس کے کہ اے مخاطب تیری نظر ذلیل ہوکر اور تھک کر تیری طرف واپس آجائے۔ حضرت حق تعالیٰ کے بنائے ہوئے آسمانوں میں کوئی تفاوت تجھ کو نظر نہ آئے گا پھر یہ آسمان پوری زمین کو اسی طرح محیط ہے جس طرح انڈا اپنی سفیدی اور زردی کو محیط ہوتا ہے انڈا پوری طرح گول نہیں ہوتا مگر آسمان زمین کی طرح گول ہے اور زمین کو سب طرف سے گھیرے ہوئے ہے، یہی وجہ ہے کہ زمین کے کسی حصے پر پہنچ کر آسمان کو دیکھئے ہر جگہ سے سروں کے اوپر نظرآئے گا اور یہ جو فرمایا ۔ خاسئا وھو حسیر نگاہ عیب بین کو جب کوئی عیب نہ ملے گا تو ذلیل ہوگی اور جب بار بار کوشش کرے گی تو تھک کر درماندہ ہوجائے گی۔ حضرت حق تعالیٰ کے کمال صنع میں انگلی رکھنے کی جگہ کہاں۔ آگے آسمان دنیا کی بعض خصوصیات کا ذکر فرمایا۔
Top