Tafseer-e-Jalalain - Aal-i-Imraan : 29
وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ
وَقُلْ : اور کہو رَّبِّ : اے میرے رب اَنْزِلْنِيْ : مجھے اتار مُنْزَلًا : منزل مُّبٰرَكًا : مبارک وَّاَنْتَ : اور تو خَيْرُ : بہترین الْمُنْزِلِيْنَ : اتارنے والے
اے اہل کتاب کیوں انکار کرتے ہو اللہ کے کلام کا اور تم قائل ہو،
معارف و مسائل(انتم تشھدون) اور (انتم تعلمون) کے الفاظ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اگر وہ اقرار حق نہ کریں یا ان کو علم نہ ہو تو ان کے لئے کفر جائز ہوگا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ کفر اپنی ذات کے اعتبار سے ایک قبیح فعل ہے، یہ ہر حالت میں ناجائز ہے، البتہ علم و اقرار کے بعد کفر اختیار کرنے میں ملامت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
Top