Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اپنے رب کے حضور اس طرح عرض کرو کہ اے، میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کی اکساہتوں سے
112 اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہوسکتی : کہ وہ ہر چیز کو اس کے ظاہر و باطن ہر اعتبار سے جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ سو یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم خوب جانتے ہیں ان باتوں کو جو یہ لوگ بناتے ہیں۔ سو اس کے مطابق ہم ان سے خود نمٹ لیں گے اور ٹھیک ٹھیک نمٹ لیں گے۔ لہذا آپ ﷺ کو ان کے درپے ہونے کی اور ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کی یہ حرکتیں جو یہ حق اور داعی حق کیخلاف کر رہے ہیں ہم سے مخفی نہیں۔ ہم ان کے ظاہر و باطن کو ایک برابر جانتے ہیں۔ اس لیے آپ ان کا معاملہ ہم ہی پر چھوڑ دیں۔ ہم ان کو ان کی ایک ایک شرارت اور شرانگیزی کا مزہ چکھا کر رہیں گے۔ اور ایسا چکھائیں گے کہ کوئی کسر باقی نہیں رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Top