Maarif-ul-Quran - Al-Anbiyaa : 9
فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ
فَفَهَّمْنٰهَا : پس ہم نے اس کو فہم دی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَكُلًّا : اور ہر ایک اٰتَيْنَا : ہم نے دیا حُكْمًا : حکم وَّعِلْمًا : اور علم وَّسَخَّرْنَا : اور ہم نے مسخر کردیا مَعَ : ساتھ۔ کا دَاوٗدَ : داود الْجِبَالَ : پہار (جمع) يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے وَالطَّيْرَ : اور پرندے وَكُنَّا : اور ہم تھے فٰعِلِيْنَ : کرنے والے
اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانانہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے
8: وَمَا جَعَلْنٰـھُمْ جَسَدًا (اور ہم نے ان کو ایسا جسم نہیں بنایا) جسد (رنگ دار جسم) اس کو واحد لائے کیونکہ اسم جنس ہے جس کا اطلاق واحد و جمع سب پر ہوتا ہے۔ لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ (جو کھانا نہ کھاتے ہوں) یہ جَسَدًاکی صفت ہے یعنی ہم نے آپ سے پہلے والے انبیاء (علیہم السلام) کو کھانا نہ کھانے والے جسم نہیں بنایا۔ وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ (اور وہ ہمیشہ رہنے والے بھی نہ تھے) گویا کہ کفار نے اس طرح کہا وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ نہ کھائے اور ہمیشہ رہے چونکہ ان کے اعتقاد میں فرشتوں پر موت نہ آئے گی۔ نمبر 2۔ طویل بقاء اور لمبی زندگی کو خلود کا نام دے دیا گیا۔
Top