Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے
10 : وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ (اور کہیں گے اگر ہم سنتے) طالب حق کی طرح ڈراوئوں کو سنتے اَوْ نَعْقِلُ ( یا سمجھتے) ایسے سمجھتے جیسے غور و فکر والا سمجھتا ہے مَاکُنَّا فِیْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (تو اہم اہل دوزخ میں نہ ہوتے) من جملہ ان لوگوں میں سے جو دوزخ میں پڑے ہیں۔ نحو : تکلیف کا دارومدار دلائل سمع و عقل پر ہے اور یہی دو دلیلیں اتمام حجت کیلئے کافی ہیں۔
Top