Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے
(67:10) وقالوا : اس کا عطف گذشتہ قالوا پر ہے۔ اور یہ کلام کفار کا دوزخ پر مامور فرشتوں سے ہے۔ لو کنا نسمع او نعقل : لو شرطیہ ، جملہ شرطیہ ہے ما کنا فی اصحب السعیر : جواب شرط۔ اصحب السعیر مضاف مضاف الیہ ۔ اہل دوزخ۔ (نیز ملاحظہ ہو 67:5 متذکرہ الصدر) ۔ اگر ہم خدا کے عذاب سے ڈرانیوالے پیغمبروں کی بات گوش ہوش سے سن لیتے اور عقل سے کام لیتے ہوئے اس پر عمل کرتے تو آج ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔
Top