Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور (یہ بھی) کہیں گے کہ ہم اگر سن لیتے یا عقل ہی سے کام لیتے تو ہم اہل دوزخ میں سے نہ ہوتے،8۔
8۔ منکرین اب اعتراف کریں گے کہ یہ توحید، رسالت وآخرت کے عقائد تو ایسے کھلے ہوئے اور عقل سلیم کے اس قدر مطابق تھے کہ ہم نے خود ہی اگر اپنی عقل و دماغ سے کام لیا ہوتا تو انہیں نتیجوں تک پہنچ جاتے، چہ جائیکہ جب راست باز متدین یقین دلانے والے اس کا یقین دلا رہے تھے ہماری شامت کی انتہاء تھی کہ پھر بھی ہم انکار ہی پر تلے رہے۔ (آیت) ” لوکنا نسمع “۔ نسمع سے مراد دلیل سمعی اور طریق تقلید لی گئی ہے۔ (آیت) ” اونعقل “۔ نقل سے مراد دلیل عقلی اور طریق تحقیق لی گئی ہے۔
Top