Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور وہ کہیں گے، کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں شامل نہ ہوتے
وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 10) (اور وہ کہیں گے، کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں شامل نہ ہوتے۔ ) اہلِ جہنم کے اعتراف کی مزید تفصیل یہ کافروں کے اعتراف کی مزید تفصیل ہے کہ وہ اپنی تکذیب اور سرکشی کا اعتراف کرتے ہوئے نہایت تأسف سے یہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اپنی طرف آنے والے اللہ تعالیٰ کے نبی کی باتوں اور اس کی تعلیمات پر کان دھرا ہوتا۔ طالبِ حق بن کر ان کی باتوں کو توجہ سے سنا ہوتا یا عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ فی الواقع وہ بات کیا ہے جو ہمارے سامنے کی جارہی ہے تو آج ہم اہل جہنم میں سے نہ ہوتے اور یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہمارا مقدر نہ ہوتی۔ آیتِ کریمہ میں سننے کا ذکر، سمجھنے سے پہلے کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بات کی قبولیت کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ پہلے اسے غور سے سنا جائے اور اگر وہ لکھی ہوئی چیز ہو تو اسے پڑھا جائے۔ اس کے بعد اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ اس پر غور و فکر کی نوبت آئے اور پھر نتیجہ اقرار یا انکار کی صورت میں نکلے۔ لیکن جب کسی بات کو سننے سے ہی انکار کردیا جائے تو اس کے سمجھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اہل مکہ کا حال ایسا ہی تھا اسی لیے قرآن کریم جیسی دلوں میں اتر جانے والی کتاب بھی ان پر جلدی اثرانداز نہ ہوسکی ان کا رویہ یہ تھا کہ جب نبی کریم ﷺ انھیں قرآن کریم پڑھ کر سناتے تو وہ شور مچاتے اور سننے سے انکار کردیتے اور لوگوں کو بھی تلقین کرتے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے مت سنو، بلکہ شور مچائو تاکہ بلاقصد بھی کوئی بات کان میں نہ پڑجائے۔
Top