Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور وہ (بصد حسرت و افسوس) کہیں گے کہ اے کاش اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو آج ہم اس بھڑکتی آگ کے سزا واروں میں نہ ہوتے1
15 دوزخیوں کے اظہار یاس و حسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ہم سن لیتے۔ یعنی سن لیتے دعوت حق و ہدایت کو اور دل سے اپنالیتے اس کو اور مان لیتے اس بات کو کہ یہ پاکیزہ صفت حضرات جو کچھ کہتے کرتے ہیں اس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ‘ ان کی یہ بےلوث اور مخلصانہ باتیں ہمارے بھلے ہی کیلئے ہیں ‘ کاش کہ یہ بات ہمیں اس وقت سمجھ میں آجاتی اور آج ہمیں اس حشر سے دوچار نہ ہونا پڑتا ‘ سو حق و ہدایت کی دعوت کو سننا اور ماننا سعادتوں کی سعادت اور سرفرازیوں کی سرفرازی ہے جبکہ اس سے اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس یوم عظیم میں دوزخی کہیں گے کہ کاش کہ ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو آج اس ہولناک انجام سے دوچار نہ ہوتے۔ سو وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنی عقلوں سے کام لیتے اور سوچتے کہ آخر یہ حضرات کہتے کیا ہیں ‘ تو ہمیں نور حق نصیب ہوجاتا ‘ اور آج ہمیں اس انجام سے دوچار نہ ہونا پڑتا مگر بےوقت کے اس افسوس اور پچھتاوے سے ان کو وہاں کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سوائے اپنی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو سمع وطاعت یعنی حق بات کو سننا اور ماننا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخی لوگ بصد حسرت کہیں گے کہ اگر ہم سن لیتے یا اپنی عقلوں سے کام لے لیتے تو آج ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے : بلکہ اس کے بجائے ہم آج جنت والوں میں سے ہوتے ‘ مگر اب تو حسرت اور افسوس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ‘ جس نے اب کبھی بھی اور کسی بھی طرح واپس نہیں آنا ‘ سو اس وقت وہ اعتراف کریں گے کہ اگر ہم حق بات کو سن لیتے ‘ یا عقل سے کام لے کر راہ حق کو اپنا لیتے تو آج ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا ‘ لیکن ہم نے ایسے نہ کیا اور اب ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دعوت حق کو سننا اور قبول کرنا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے اعراض و روگردانی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ہلاکتوں کی ہلاکت اور دائمی خسارے کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Top